خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 626 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 626

خطابات شوری جلد دوم ۶۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء نے بھی معاہدہ کیا کہ ایک (یا دو) سال کے اندر اندر اس کے اخراجات اور تنخواہ وغیرہ کا صدر انجمن احمدیہ پر کوئی بوجھ نہیں رہے گا۔میں جانتا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا صرف ان کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے یہ تجویز کی گئی ہے تاکہ ان کو قادیان میں رہنے کا موقع دیا جائے اور وہ باہر نہ جائیں۔چنانچہ جب اُن کی تنخواہ کا سوال آیا اور کہا گیا کہ ان کی تنخواہ زیادہ ہے اور پہلا ایڈیٹر کم تنخواہ لیتا رہا ہے تو کہہ دیا گیا کہ بیشک پہلے ایڈیٹر کو ہم تمہیں چالیس روپے دیتے تھے اور انہیں ستر اسی روپے ماہوار دینے پڑیں گے مگر یہ تھوڑے عرصہ کی بات ہے ایک دو سال کے اندر اندر یہ اپنی تنخواہ اور دوسرے اخراجات رسالہ کی آمد میں سے نکال سکیں گے۔اب ان کی یہ بات اُسی طرح درست تھی جیسے درزی نے کہا تھا کہ میں کپڑے کی آٹھ ٹوپیاں بنادوں گا۔چنانچہ ایک سال کا تو کیا ذکر ہے وہ چار سال تک برابر صدر انجمن احمدیہ سے تنخواہ وصول کرتے رہے اور اب آ کر انہیں کہا گیا کہ وہ اپنی تنخواہ رسالہ کی آمد میں سے نکالیں صدر انجمن احمد یہ انہیں امداد دینے کے لئے تیار نہیں۔بیشک اس سے اُنہیں تکلیف ہوئی ہے مگر در حقیقت جب بھی کوئی اس قسم کی بات کی جائے گی جس میں پوری طرح تقویٰ کو مدنظر نہیں رکھا جائے گا تو اُس کا ایسا ہی نتیجہ نکلے گا۔پس در حقیقت یہ اُس نامناسب تدبیر کا نتیجہ ہے جو ان کے متعلق کی گئی۔میں چونکہ اعتراض کرتا تھا کہ فلاں فلاں مبلغ باہر نہیں جاتے انہیں قادیان میں کیوں رکھا جاتا ہے اس لئے میرے اس اعتراض سے بچنے کے لئے محکمہ نے جو شاید ان کی مشکلات سے بہت متاثر تھا جوڑ تو ڑ کر کے انہیں ایڈیٹر بنا دیا اور پہلے ایڈیٹر کو تمیں چالیس روپے ملتے تھے مگر ان کو ستر اسی روپے دینے شروع کر دیئے گئے اور مجھے کہا گیا کہ یہ ایک سال کے اندر اندر تمام اخراجات خود برداشت کرنے کا ذمہ لیتے ہیں۔میں نے کہا مجھے منظور ہے۔میں جانتا تھا کہ مجھے جو کچھ کہا گیا ہے اُس پر عمل نہیں ہو سکے گا، میں جانتا تھا کہ یہ تجویز میرے سامنے کیوں پیش کی گئی ہے مگر شریعت مجھے بولنے کا حق نہ دیتی تھی اس لئے میں خاموش رہا اور میں نے کہا بہت اچھا یہ تجربہ کر کے بھی دیکھ لو۔پس موجودہ مشکل کو دور کرنے کا میرے پاس کوئی علاج نہیں۔تقوی سے دوری کا نتیجہ جب بھی انسان پوری طرح تقویٰ سے کام نہ لے گا وہ ضرور پھنسے گا۔ناظر پھنسیں، انجمن پھنسے یا ایڈیٹر پھنسے۔