خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 627

۶۲۷ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء بہر حال وہ اس صورتِ حالات کے ذمہ دار ہیں۔خود ایڈیٹر نے کہا کہ میں ایک دو سال کے اندر اندر آمد سے اس کا خرچ نکال لوں گا اور میرے سامنے تجویز پیش کی گئی کہ انہیں ایک دو سال تک صدر انجمن احمدیہ سے تنخواہ دلا دی جائے اس کے بعد اس مدد کی ضرورت نہیں رہے گی۔مگر نظارت کی غلطی سے ایک دو سال کی بجائے چار سال تک یہ امدا دلتی رہی۔پس آج اگر اس امداد کے بند کرنے سے اُنہیں کوئی تکلیف ہوئی ہے تو یہ تکلیف در حقیقت انہیں آج سے تین سال پہلے پہنچنی چاہئے تھی مگر غلطی سے اس طرف توجہ نہ کی گئی۔اگر اُس وقت یہ طریق اختیار نہ کیا جاتا اور صفائی سے یہ سوال اُٹھایا جاتا کہ ریویو کے لئے قابل ایڈیٹر کی ضرورت ہے اور قرعہ فال موجودہ ایڈیٹر کے نام پڑتا تو یہ مشکلات پیش نہ آتیں۔بعض اور باتیں بھی بجٹ کے متعلق میرے نوٹس میں لائی گئی ہیں۔درحقیقت بجٹ کی زیادتی کی وجہ یہ ہے کہ جو قواعد مقرر ہیں اُن کے خلاف عمل کیا جاتا ہے۔مثلاً ایک قاعدہ جو میرا منظور کردہ ہے اور جس کا کیڈر کمیٹی کی رپورٹ اور صدرانجمن احمدیہ کی رائے پر میں نے فیصلہ کیا تھا یہ ہے کہ : - منظور شدہ اسامیوں کے گریڈ میں کسی قسم کی تبدیلی بصورت کمی و بیشی کی ضرورت محسوس ہو تو اس کے لئے لازمی ہوگا کہ نظارت متعلقہ کی طرف سے مفصل رپورٹ مع رپورٹ محاسبہ کمیٹی بلحاظ مالی پہلوصدرانجمن احمد یہ میں پیش ہو کر مشاورت میں حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی باقاعدہ منظوری حاصل کی جائے۔“ اس قاعدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آپ ہی آپ گریڈ بدلے جاتے رہے ہیں اور بعض میں کمی اور بعض میں زیادتی کی جاتی رہی ہے حالانکہ یہاں کمی کے بھی الفاظ ہیں اور بیشی کے بھی۔اور صاف الفاظ میں یہ تصریح کر دی گئی ہے کہ منظور شدہ اسامیوں کے گریڈ میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو تو نظارت متعلقہ کی طرف سے مفصل رپورٹ محاسبہ کمیٹی کی رپورٹ کے ساتھ صدرانجمن احمد یہ میں پیش کر کے مشاورت میں خلیفہ وقت کی منظوری حاصل کی جائے۔اسی طرح میری ہدایت تھی کہ بجٹ میں پندرہ ہزار روپیہ کی کمی کی جائے مگر صدر انجمن احمدیہ نے یہ پندرہ ہزار روپیہ جس طرح کم کیا ہے وہ سلسلہ کے