خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 620

خطابات شوری جلد دوم ۶۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء صورت ہو تو چندہ عام کی رقم اُس کے چندہ میں سے منہا کر لی جائے گی اور بقیہ رقم واپس کی جائے گی اور جائیداد کی صورت میں خواہ وہ جائیداد موجود ہو اور خواہ پک چکی ہو دونوں صورتوں میں واپس کی جائے گی یعنی سب کمیٹی فروخت شدہ جائیداد کو بھی جائیداد ہی سمجھتی ہے۔“ کمیٹی کی تجویز یہی ہے کہ جائیداد بہر حال واپس کرنی چاہئے اس قاعدہ کی حد بندی کے ساتھ جس کا پہلے ذکر کیا جاچکا ہے۔البتہ جو روپیہ ماہوار بطور حصہ آمد آئے اس کے متعلق یہ امتیاز کیا جائے کہ چندہ عام کو وضع کر لیا جائے اور باقی رقم واپس کی جائے جو دوست سب کمیٹی کی اس تجویز کی تائید میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ صرف ۵۲ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا:- چونکہ شیخ بشیر احمد صاحب کی ترمیم کو خلیل احمد صاحب ناصر کی تشریح کے ساتھ جس میں رقم واپس لینے والوں کی تعیین کا ذکر ہے جماعت کی اکثریت کی تائید حاصل ہے اس لئے میں بھی اکثریت کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں کہ :- " چونکہ آمد کی وصیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قاعدہ کے وقت کہ مرتد اور منکر از وصیت کا مال رڈ کر دیا جائے موجود نہ تھی اس لئے رڈ کرنے کا قاعدہ آمد کے مالوں پر چسپاں ہی نہیں ہوتا نیز آمد کا مال خرچ ہوتا جاتا ہے نہ قبضہ میں ہوتا ہے نہ قائم رہتا ہے اس لئے حصہ آمد کا مال کسی صورت میں بھی واپس نہ کیا جائے۔ہاں اگر مرتد یا منکر از وصیت کی کوئی جائیداد بجنسہ انجمن کے قبضہ میں ہو تو وہ بیشک ارتداد یا انکار از وصیت کی صورت میں واپس ہونی چاہئے۔مگر اس قاعدہ کا اطلاق صرف اُسی شخص پر ہو گا جو ضعف ایمان کی وجہ سے اپنی وصیت سے منکر ہو جائے اور کہہ دے کہ میرا اب وصیت کے مسئلہ اور اس کے نتیجہ میں جنت ملنے پر اعتقاد نہیں رہا۔یا سلسلہ سے خود روگردان ہونے کا دعویٰ کرے۔لیکن جسے تعزیری طور پر نظام سلسلہ سے خارج کیا جائے اُس کی وصیت کا کوئی مال واپس نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ حسب قاعدہ نمبر ۱۲ متعلقہ ضمیمہ رسالہ الوصیت مرتد نہیں ہوا بلکہ اُسے نظام سلسلہ نے الگ کیا ہے۔“