خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 607
خطابات شوری جلد دوم ۶۰۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء بھی میں ہی دوں گا۔اگر قرآن کریم میں تاثیر ہوگی تو ان کے بھیجے ہوئے طالب علموں کو میں مسلمان کر لوں گا اور اگر ویدوں میں تاثیر ہوگی تو ہمارے طالب علموں کو وہ ہند و کرسکیں گے اور یہ ہم دونوں کا انعام ہو گا مگر اُنہوں نے اِس تجویز کو نہ مانا۔مہاشہ محمد عمر صاحب بھی اس پارٹی میں تھے اُن کے دل پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ چند دنوں کے بعد بھاگ کر یہاں آگئے۔انہوں نے گو جوانی یہاں گزاری ہے مگر بچپن میں وہ ہندوؤں میں رہے ہیں اور وہیں پڑھتے رہے ہیں اس لئے ان کا لہجہ ہندوانہ ہے۔ان کے علاوہ مہاشہ فضل حسین صاحب ہیں وہ شاید سنسکرت تو نہیں جانتے مگر ہندو لٹریچر سے اچھے واقف ہیں مگر ان سب لوگوں سے ابھی تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ہندوؤں میں تبلیغ کا طریق ہندوؤں میں تبلیغ اس طرح کامیاب نہیں ہوسکتی کہ کبھی کسی موقع پر کوئی مبلغ گیا اور کوئی تقریر کر کے واپس آ گیا بلکہ جب تک کوئی جاکر ان میں ہی ڈیرا لگا کر نہ بیٹھ جائے جس طرح حضرت معین الدین چشتی اور بعض دوسرے بزرگوں نے کیا اُس وقت تک ہندوؤں میں کامیابی سے تبلیغ نہیں ہو سکتی۔اس کا صحیح طریق یہی ہے کہ پرانے صوفیاء کی طرح آدمی ان میں ہی جا کر بیٹھ جائے۔ان کی گالیاں سنے ، ماریں کھائے ، تکلیفیں اُٹھائے مگر وہاں سے ہٹے نہیں۔ان لوگوں میں رہے نمازیں پڑھے، روزے رکھے اور اسلام کا صحیح نمونہ پیش کرے۔مگر بظاہر اسلامی ماحول سے کٹ کر ان میں رہائش اختیار کرے مگر اب تک ایسا نہیں کیا گیا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوؤں میں تبلیغ کے لئے لٹریچر کی بھی ضرورت ہے مگر سوال یہ ہے کہ لکھنے والے تو کئی آدمی موجود تھے کیا ان سے کوئی لٹریچر لکھوایا گیا ؟ آدمی تو پندرہ پندرہ سال سے موجود تھے پھر ان سے کیوں لٹریچر تیار نہ کرایا گیا ؟ ایسی سکیم بنائی جاسکتی تھی کہ جس سے بہت سا مفید کام ہو سکتا۔بجائے اس طرح چندہ مانگنے کے اگر یہ کہا جاتا کہ فلاں فلاں کتب سنسکرت ، مرہٹی، گجراتی اور تلنگو وغیرہ زبانوں میں تیار کرائی گئی ہیں انہیں چھپوانے کے لئے روپیہ چاہئے تو میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہی لوگ جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ بقایا دار ہیں وہ تمام خرچ بخوشی ادا کر دیتے۔جس وقت میں نے تحریک جدید کا اعلان کیا ہے اُس وقت بھی بقایا دار موجود تھے مگر وہی جماعت ہر سال سوا ڈیڑھ لاکھ روپیہ اس تحریک