خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 608

خطابات شوری جلد دوم ۶۰۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء میں ادا کر رہی ہے اور اس کے ساتھ چندہ عام بھی پہلے سے بڑھ رہا ہے۔پس صرف خالی تجویزیں پیش کر دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا اس کا مقصد تو صرف بعض زیر نظر آدمیوں کو فائدہ پہنچانا ہو سکتا ہے اور مجھے سب کمیٹی کے بعض ممبروں نے بتایا ہے کہ اس روپیہ کا ایک حصہ بعض لوگوں کے لئے وظائف مقرر کرنے پر صرف ہوگا۔سوال یہ ہے کہ اگر واقعی کوئی ٹھوس کام کرنے کی نیت ہے تو اب تک کیوں نہ کیا گیا جبکہ اس کے لئے موزوں آدمی موجود تھے۔آخر وہ کونسے اسلامی مسائل ہیں جن پر تقریریں کرنے کے لئے اگر مہاشہ محمد عمر صاحب کو نہ بھیجا جائے تو کام نہیں ہوسکتا۔کیوں ان سے ہندوؤں میں تبلیغ کے سلسلہ میں اب تک کام نہیں لیا گیا ؟ پندرہ سال میں کونسی کتاب ہندوؤں کے متعلق لکھی گئی ہے؟ کونسا لٹریچر سکھوں کے متعلق پیدا کیا گیا ہے؟ اور ان مبلغوں سے ہندوؤں اور سکھوں میں خاص طور پر تبلیغ کا کونسا کام لیا گیا ہے؟ سوائے اس کے کہ یہ احمدیوں کے گاؤں میں جا کر بیٹھ رہتے ہیں اور مقامی لڑائیوں جھگڑوں میں حصہ لیتے ہیں۔یا زیادہ سے زیادہ ہفتہ میں ایک آدھ بار کسی ہندو یا سکھ سے بھی کچھ بات چیت کر لیتے ہیں اور جب یہ حالت ہے تو ان کو ہندوؤں اور سکھوں کے لئے مبلغ کس طرح کہا جاسکتا ہے۔پس حقیقت یہی ہے کہ مبلغین سے صحیح طور پر کام نہیں لیا جا تا تبلیغ کا سارا زور غیر احمد یوں پر صرف ہورہا ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیابی بھی ہو رہی ہے، جماعت بھی بڑھ رہی ہے لیکن اگر یہ کامیابی کافی ہے تو اس نئی سکیم کے پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی اور اگر کافی نہیں تو اس کا محکمہ کے پاس کیا جواب ہے کہ جب آدمی موجود تھے تو ان سے کام کیوں نہیں لیا گیا اور پہلوں سے کیا کام لیا گیا ہے جو مزید آدمی منظور کئے جائیں۔جب تک صحیح طریق پر کام نہ کیا جائے گا خواہ کتنے آدمی کیوں نہ رکھ لئے جائیں کامیابی نہیں ہو سکتی جب تک محکمہ دن اور رات لگا کر اور ایک دُھن کے ساتھ کام نہ کرے کوئی مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا۔جن مبلغین کا میں نے ذکر کیا ہے کہ وہ ہندوؤں میں تبلیغ کا کام کر سکتے ہیں ان کے لئے بجٹ میں سفر خرچ کی گنجائش ہمیشہ رکھی جاتی رہی ہے، پھر ان کو کیوں ہندوانہ ماحول میں بھیج کر فائدہ نہیں اُٹھایا گیا اور کیوں ان سے مفید لٹریچر تیار نہیں کرایا گیا۔اگر محکمہ ایسا لٹریچر تیار کرا تا تو اس کی اشاعت کے لئے فوراً رو پیٹل سکتا تھا۔ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ جماعت