خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 606
خطابات شوری جلد دوم ۶۰۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء میں رائے دی ہے اس لئے میں بھی یہی فیصلہ کرتا ہوں۔امید ہے کہ قادیان میں بھی اب یہ 66 رسم مٹا دی جائے گی۔“ ہندووں میں تبلیغ کی اہمیت سب کمیٹی نظارت دعوۃ وتبلیغ کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ ہندوؤں میں تبلیغی مہم شروع کرنے کے لئے موجودہ وقت بہت مناسب ہے اس کے لئے انتظام کیا جائے۔اس پر بحث کے بعد حضور نے فرمایا: - ”ہمارے سامنے یہ سوال متواتر آیا ہے کہ ہندوؤں میں تبلیغ کے لئے کوئی تجویز کی جائے اور یہ سوال متفرق اوقات میں ہمارے سامنے آیا ہے لیکن یہ کہ اس سلسلہ میں کیا کوشش کی گئی اس کا کوئی پتہ نہیں اور نتیجہ ہمارے سامنے نہیں ہے۔ہند و علوم اور لٹریچر سے واقف کئی لوگ ہمارے پاس موجود ہیں۔پروفیسر عبداللہ بن سلام صاحب ہیں جو بہت بڑے ماہر ہیں، مولوی عبد اللہ ناصر الدین صاحب ہیں جو دید بھی پڑھے ہوئے ہیں اور اعلیٰ ڈگری حاصل کر چکے ہیں، مہاشہ محمد عمر صاحب نے بھی پنجاب یونیورسٹی سے مولوی عالم کی ڈگری کے برابر ڈگری سنسکرت میں حاصل کی ہوئی ہے یہ مادر زاد ہندو ہیں اس لئے ان کا لہجہ وغیرہ بھی ہندوانہ ہے۔سکھوں کے متعلق واقفیت رکھنے والے کئی لوگ ہیں۔گیانی عباداللہ صاحب اور گیانی واحد حسین صاحب ہیں۔ان کے علاوہ VETERAN سپاہی سردار محمد یوسف صاحب ہیں جو سکھوں کی کتب اور لٹریچر کے پرانے ماہر ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے دیر سے بہت مفید کام کر رہے ہیں۔غالبا ۱۹۲۲ء کی بات ہے کہ مہاشہ محمد عمر صاحب ہندو طالب علموں کی ایک پارٹی کے ساتھ مجھے ملنے کے لئے آئے تھے۔گور وکل کانگڑی کے ایک پروفیسر صاحب یہاں ایک جلسہ پر آئے تھے اور اپنی بہادری دکھانے کے لئے کہ دیکھو میں کیسی اچھی تقریر کرتا ہوں طالب علموں کی ایک پارٹی کو بھی ساتھ لے آئے۔اُنہوں نے طلباء کو مجھ سے ملنے کے لئے بھی بھیجا۔اُس وقت مہا شہ محمد عمر بھی ان کے ساتھ تھے میں نے طالب علموں سے کہا پروفیسر صاحب سے کہو کہ آپ اپنے چند طالب علم یہاں بھیج دیں میں خود اُن کو قرآن پڑھاؤں گا۔اسی طرح میں چند طالب علم بھیجتا ہوں جن کو وہ وید پڑھائیں۔خرچ اپنے طالب علموں کا بھی اور اُن کے بھیجے ہوئے طالب علموں کا