خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 47
خطابات شوری جلد دوم ۴۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء امداد دینے کے طریق ان کارخانوں میں کام سکھانے کے متعلق ہم یتیم لڑکوں کو مقدم رکھیں گے اور جن لڑکوں کو ہم لیتے ہیں ان کا سارا خرچ برداشت کرتے ہیں۔ساتھ ہی دینی اور دنیوی تعلیم بھی دلاتے ہیں تا کہ گو وہ کہنے کو تو مستری ہوں لیکن اصل میں انجینئر ہوں اور اعلیٰ پیشہ ور ہوں۔یہ بھی ارادہ ہے کہ سرکاری ورکشاپوں سے معلوم کیا جائے کہ اُنہیں کن کاموں اور پیشوں کے جاننے والوں کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر ان کے مطابق کام سکھایا جائے۔پس جماعت کے دوست خود ان کارخانوں کی اشیاء خریدیں اور اپنے اپنے ہاں ان کی ایجنسیاں قائم کریں۔امرتسر ، لاہور، گوجرانوالہ، جہلم، راولپنڈی، پشاور وغیرہ مقامات ایسے ہیں کہ وہاں کے دوست سامان منگائیں تا فروخت کر کے خود بھی فائدہ اُٹھا ئیں اور یہاں بھی فائدہ پہنچا ئیں۔اسی طرح بیرونی تجارتوں کا سلسلہ مد نظر ہے جو مبلغ بیرونی ممالک میں گئے ہوئے ہیں اُن کے ذریعہ وہاں کی تجارتی اشیاء یہاں منگائی جائیں اور یہاں کی وہاں بھیجی جائیں۔اس کے متعلق لاہور اور دہلی دو جگہ جماعتوں نے انتظام کیا ہے جو جماعتیں اپنی ضمانت پر کسی جگہ دوکان کھلوادیں وہاں چند ہفتوں کے اُدھار پر بھی مال بھجوایا جا سکتا ہے۔ان تمام تجویزوں سے مقصود یہ ہے کہ جماعت کی مالی حالت کو مضبوط کیا جائے۔یہ باتیں جو اس وقت میں نے بیان کی ہیں ان کو مدنظر رکھ کر احباب کو کام کرنا چاہئے دعا تا کہ ہم کامیاب ہوں۔اب میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں توفیق دے ہم اس ارادے کے ساتھ کھڑے ہوں کہ یا تو مٹ جائیں گے یا پھر اسلام کی اشاعت کر کے چھوڑیں گے۔میں پناہ مانگتا ہوں اس وعید کے پورا کرنے والے سے جو دین سے غداری کرنے اور سُستی و کوتاہی سے کام لینے والوں کے متعلق ہے۔میں پھر دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو ترقی کی راہیں رکھی ہیں وہ ہمارے ہی ہاتھوں سے کھول دے اور ہمارے ہی ذریعے اپنے وعدوں کو پورا کرے۔“