خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 48
خطابات شوری جلد دوم ۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء دوسرا دن تعلیم نسواں مجلس مشاورت کے دوسرے دن یعنی ا را پر میل ۱۹۳۶ء کو مجلس مشاورت کے دوسرے اجلاس میں سب کمیٹی نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے نصرت گرلز ہائی سکول قادیان کے ساتھ زنانہ بورڈنگ ہاؤس بنانے کا مسئلہ برائے غور و بحث پیش ہوا۔کئی ممبران نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔رائے شماری کے بعد حضور نے احباب جماعت کو بعض اہم امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا :- چونکہ مسئلہ بہت اہم ہے اور بعض دوستوں کو اس کے متعلق جوش بھی آ گیا اور میں سمجھتا ہوں ایک حصہ نمائندگان کا ایسا بھی ہے جو غیر جانب دار رہا ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ بعض باتیں خود بھی بیان کر دوں۔بعض دوستوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ہماری جماعت کی لڑکیاں اپنے اپنے مقامات میں بہر حال تعلیم حاصل کریں گی اور جب وہ قادیان کی بجائے باہر تعلیم پائیں گی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ باہر کی تعلیم کے نقائص ان پر اثر انداز ہوں گے۔پھر کیوں نہ ہم جوضرر بہر حال پہنچنا ہے اُس سے بچنے کے لئے اس حد تک کوشش کریں جس حد تک کر سکتے ہیں تا کہ پورا ضرر نہیں بلکہ تھوڑا ضرر پہنچے۔اگر پورے ضرر سے ہم نہیں بچ سکتے تو کوئی وجہ نہیں کہ جس قدر ضرر سے بچ سکتے ہیں اس سے بھی نہ بچیں۔باہر فیشن کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ڈانسنگ سکھائی جاتی ہے، بے پردگی سکھائی جاتی ہے، برتھ کنٹرول کی تعلیم دی جاتی ہے اور ایسی باتیں سکھائی جاتی ہیں جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہیں۔یہ ضرر ہماری لڑکیوں کو بھی پہنچ سکتے ہیں۔ان سے بچنے کے لئے ہمارے واسطے ضروری ہے کہ ایسی کوشش کریں کہ اگر پوری طرح نہیں بچ سکتے تو کچھ حصہ ضرر سے ہی بچیں۔یہ دلیل بظاہر نہایت معقول نظر آتی ہے۔ایک دوست نے اس پہلو کو لیا تھا۔گواس رنگ میں دلائل کا خلاصہ دے کر نہیں بیان کیا مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایک طرف ان مضرات کو رکھا جائے اور دوسری طرف پرائمری اور مڈل کی تعلیم کو رکھ کر دیکھا جائے کہ کونسی چیز بھاری ہے۔اصولی طور پر جانے دو کیونکہ جب تک کوئی چوٹ اپنے پر نہ پڑے عام