خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 595

خطابات شوری جلد دوم ۵۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء نکال دیا تو وہ جا کر پیغامیوں سے مل گیا جس کے معنے یہ ہیں کہ ان مبلغین میں جماعت کے عام مومنوں جتنا ایمان بھی نہ تھا اور یہ بھی تعلیم و تربیت کا نقص ہے کہ ایسے مبلغ پیدا نہیں ہو رہے اور مبلغین کا انتخاب کرنے والوں پر بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ناظران کے فرائض میرے پاس کئی شکائتیں ایسی آتی ہیں کہ مبلغین جب باہر جاتے ہیں تو تمسخر سے کام لیتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں اور دوسروں کو اُکساتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ جو ناظر ایسے مبلغین کے متعلق رپورٹ سن کر خاموش رہتا ہے اُس کا ایمان بھی مشتبہ ہے۔میرے نزدیک خود نظارت بھی بہت تربیت کی محتاج ہے۔دن گزرتے جاتے ہیں اسلام کے لئے زیادہ سے زیادہ خطرات پیدا ہور ہے ہیں مگر نظارت میں کوئی اصلاح نہیں۔ابھی بجٹ آپ لوگوں کے سامنے آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ اس کی تیاری میں کیسی غفلت اور لا پرواہی سے کام لیا گیا ہے۔کوئی محنت نہیں کی گئی اور کوشش کی گئی ہے کہ مجبور کر کے اسے منظور کر لیا جائے۔اس بجٹ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے یہ بات پیش کی جائے کہ مسجد کی چھت پر پانی کھڑا ہے ایک ہزار روپیہ دیا جائے تو وہ بیچ سکتی ہے۔اب کون ہے جو مسجد کی چھت کا گرنا گوارہ کرے گا اور اس کے لئے روپیہ کی منظوری کی مخالفت کرے گا اسی طرح کا بجٹ ہے جو پیش کیا گیا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہم جو اخراجات پیش کرتے ہیں انہیں مانو اور اگر نہیں مانتے تو ہم مجبور کر کے منوائیں گے حالانکہ اگر دیانتداری سے غور کیا جاتا اور محنت کی جاتی تو ایسی راہیں نکل سکتی تھیں کہ کمی بھی ہو جاتی اور کام بھی چل سکتا۔پس میں اپنے آپ کو بھی اور آپ لوگوں کو بھی یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو ان ذمہ داریوں کا احساس کرو جو ہم پر عائد ہیں جو آئندہ سینکڑوں سال کے لئے ہیں۔آئندہ سینکڑوں سالوں کے لئے دنیا کی قسمتوں کا فیصلہ ہم سے وابستہ ہے ہم آج جو فیصلہ کریں گے وہ آئندہ سینکڑوں سالوں کے لئے دُنیا کی قسمتوں کا فیصلہ کر دیں گے۔ان تغیرات کی باگ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں میں دی ہے اور یہ کام خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔پس اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور اپنی نیتوں کو درست کرو۔اسی رو میں میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ناظر بھی اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے۔ان میں پارٹیاں بن گئی ہیں اور وہ باہم لڑتے ہیں۔ناظر امور عامہ ناظر اعلیٰ کی چٹکی لیتا۔