خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 596

خطابات شوری جلد دوم ۵۹۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء اور ناظر اعلیٰ اُس کی چٹکی لیتا ہے۔ایک میرے پاس آ کر دوسرے کی شکایت کرتا ہے اور دوسرا اُس کی کرتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں بے وقوف نہیں ہوں اور سب باتوں کو سمجھتا ہوں مجھے ان پر رحم آتا ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔چاہئے تو یہ تھا کہ وہ دوسروں کے اختلاف بھی دور کرتے مگر خود ان میں پارٹی بندیاں ہو گئی ہیں۔ایک کہتا ہے فلاں نے یہ کام کر دیا اور دوسرا کہتا ہے فلاں نے یہ کیا۔میں ان کو اصلاح کا موقع دیتا جارہا ہوں۔جو تقویٰ اللہ چاہئے وہ ان میں نظر نہیں آتا، خشیت اللہ باقی نہیں۔میں ابھی موقع دیئے جا رہا ہوں لیکن جب میں نے دیکھا کہ ان کی اصلاح نہیں ہوسکتی تو کہہ دوں گا کہ آپ لوگ تشریف لے جائیں۔وہ اپنے مقام کو نہیں سمجھتے اللہ تعالیٰ نے دین کی باگ ان کے ہاتھ میں دی ہے اور اپنے رسول کے تخت پر ان کو بٹھایا ہے مگر وہ اس مقام کو نہیں سمجھتے اور ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے ہیں۔اگر یہی حالت رہی تو یا تو ان کے ایمان مسخ ہو کر وہ خود مرتد ہو جائیں گے اور یا نکال دیئے جائیں گے۔میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں سلسلہ کے کام میں کسی کی رعایت کروں۔مجھے نہ نظارت کی کوئی پرواہ ہے نہ جماعت کی۔اور اگر ان کی اصلاح نہ ہوئی تو مجھے ان میں سے کسی کو نکالنے میں کوئی دریغ نہ ہو گا خواہ کوئی میرا بھائی ہو یا بیٹا یا کوئی اور رشتہ دار۔میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس امر کی توفیق دے کہ میں سلسلہ کے مفاد کے لحاظ سے کسی کی کوئی پرواہ نہ کروں۔تربیت ایمان سے پیدا ہوتی ہے میں اپنی نیتوں کو درست کر لو او تعلیم وتربیت کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو۔دیکھو قرآن کریم نے کیسی موٹی مثال تربیت کی دی ہے۔فرعون حضرت موسی کے مقابلہ پر بازیگروں کو لایا۔ان لوگوں کی تربیت اور اخلاق جس قسم کے ہوتے ہیں وہ سب جانتے ہیں۔یہ لوگ ذلیل طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے سب کام ایک دھوکا کی شکل رکھتے ہیں ہاتھ ادھر مارا اور چیز اُدھر سے نکال دی۔ظاہر ایسا کرتے ہیں کہ گویا وہ پیٹ میں سے گولہ نکال رہے ہیں لیکن نکالتے دراصل آستین میں سے ہیں۔چنانچہ جب ان کو فرعون نے حضرت موسی کے مقابلہ کے لئے بلایا تو انہوں نے پہلے یہی کہا کہ اچھا اگر ہم خوش کریں گے تو آپ کیا دیں گے؟