خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 591

خطابات شوری جلد دوم ۵۹۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء حضور نے فرمایا:- اگر چہ یہ تجویز رڈ ہو گئی ہے مگر کئی باتیں ہمارے سامنے آ گئی ہیں جو پہلے ہمیں معلوم نہ تھیں یا جو بُھول گئی تھیں۔جو سکول کسی زمانہ میں انجمن نے جاری کئے تھے اُن میں سے بعض کے متعلق تو مجھے علم تھا کہ وہ چل رہے ہیں مگر سب کے متعلق علم نہ تھا جو انجمن نے جاری کئے تھے اور اب کسی نہ کسی طرح زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔جو استاد اُن کو چلائے جا رہے ہیں اُن کی مشکلات کا ہمیں علم نہ تھا اور اس بحث کا یہ فائدہ ہوا کہ ان کی مشکلات ہمارے سامنے آگئی ہیں۔اُن کے لئے ہمدردی کے جذبات ہمارے دلوں میں پیدا ہو گئے ہیں اور ان کی خدمات کی قدر پیدا ہوئی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ تعلیم و تربیت کا تعلق جماعت کے ہر فرد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔یہ امید رکھنا کہ دنیا کا کوئی سکول یا کوئی بڑے سے بڑا محکمہ تعلیم و تربیت کا کام کر سکتا ہے بالکل غلط امید ہے۔آپ لوگوں کو خواہ بُرا لگے یا اچھا کچی بات یہی ہے کہ جب تک جماعت کے دوست فردا فردا اپنی اور اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہ کریں گے یہ بات بالکل ناممکن ہے۔خدا تعالیٰ نے تعلیم و تربیت کا اختیار خود ہمیں دیا ہے مگر ہم اسے استعمال نہیں کرتے۔مبلغ یا مدرس تعلیم و تربیت کا کام کبھی نہیں کر سکتے۔میرا سینکڑوں بار کا تجربہ ہے کہ جماعتوں نے شکایت کی کہ مبلغ ہمارے پاس نہیں آتے مگر جب مبلغ وہاں گیا تو اس نے آ کر شکایت کی کہ جماعت کوئی فائدہ اٹھانا نہیں چاہتی۔ایک حصہ بے شک فائدہ اٹھاتا ہے مگر بہت سا حصہ ایسا ہے جو فائدہ نہیں اٹھاتا۔میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں اور اب پھر یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر دوست واقعی احمدیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو اپنے دلوں میں فیصلہ کر لیں کہ تعلیم و تربیت کا کام وہ خود کریں گے کوئی مبلغ یا مدرس یہ کام نہیں کر سکتا۔پیر اکبر علی صاحب اس وقت آپ لوگوں کے سامنے بیٹھے ہیں پہلے میری رائے یہ تھی کہ وہ تعلیم کا کام اچھی طرح نہیں کر سکتے یوں بھی وہ بہت مصروف آدمی ہیں۔اسمبلی کے ممبر ہیں ، ڈسٹرکٹ بورڈ میں بھی ہیں، مسلم لیگ کے بھی ممبر ہیں، ریاست کے قانونی مشیر ہیں اور اپنی پریکٹس بھی کرتے ہیں مگر پھر بھی وہ بچوں کی تعلیم کا بہت اچھا خیال