خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 573

۵۷۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم ہیں اور یاد رکھو کہ اگر تم ریکروٹنگ سے لوگوں کو روکو گے یا جانے والوں کو بُزدل بنا کر بھیجو گے تو جو لوگ وہاں مارے جائیں گے اس کی ذمہ داری خدا کے حضور تمہارے اوپر عائد کی جائے گی۔اسی طرح جو احمدی مارے گئے ان کی ذمہ داری بھی ان احمدیوں پر ہی ہوگی جو جرمنوں کی بہادری کے قصے بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے عادی ہیں۔پس ہمیں اس معاملہ میں احتیاط سے کام لینا چاہئے اور ہمیشہ ایسے رنگ میں گفتگو کرنی چاہئے جو لوگوں کو دلیر اور بہادر بنانے والی ہو۔اگر ہم اس طرح سے ایک آدمی کو بھی بچا لیتے ہیں تو جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے، ہم ایک آدمی کی جان نہیں بچاتے بلکہ سارے جہان کو بچاتے ہیں۔لیکن اگر ہماری سستی ، ہماری غفلت اور ہماری بے احتیاطی کی وجہ سے وہاں ایک آدمی بھی مارا جاتا ہے تو نہ صرف ہمارا آدمی ضائع ہوتا ہے بلکہ ہمارا ایمان بھی ساتھ ہی ضائع ہو جاتا ہے۔غرض اس معاملہ میں کمزوری دکھانا یا بُزدلی ظاہر کرنا یا ایسی باتیں کرنا جن سے جرمنوں کو تقویت پہنچ سکتی ہو سخت ظلم ہے اور اُن لوگوں پر ظلم ہے جو میدانِ جنگ میں گئے ہوئے ہیں اور جن میں سینکڑوں ہمارے احمدی بھائی بھی شامل ہیں۔اس کے بعد میں پھر دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ بعض اہم رؤیا ہمارے تمام کام دعاؤں پر مبنی ہیں، پس ہمیں ہر وقت دعاؤں سے کام لینا چاہئے۔بڑی بڑی آفات اور مصیبتیں ہیں جو دنیا میں آنے والی ہیں۔ان میں سے بعض کے متعلق تو میں اپنی خواہیں بیان کر چکا ہوں اور بعض خوابیں ایسی ہیں جن کو میں نے ابھی تک بیان نہیں کیا۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے ابتلاء ابھی باقی ہیں اور بعض ان میں سے بہت شدید ہیں۔ابھی چار پانچ دن ہوئے مجھے ایک رویا ہوا جس سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ پیغامی پھر کوئی فتنہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔میں نے رویا میں دیکھا کہ گھر میں کوئی بیمار ہے جس کے لئے میں نے کونین تجویز کی ہے اور میں کونین لینے کے لئے حضرت اماں جان) کے کمرہ کی طرف جارہا ہوں۔جب میں کمرہ کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اندر میاں منصور احمد ، مولوی صدر الدین صاحب پیغامی اور غالباً مرزا ناصر احمد اور مرزا مبارک احمد بیٹھے ہیں۔میرا غالب خیال یہی ہے کہ ناصر احمد بیٹھے ہوئے ہیں۔میں مولوی صدر الدین صاحب