خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 572
خطابات شوری جلد دوم ۵۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء دنوں میں ہی جرمنی کو شکست دے دیں۔مگر اب تو ہندوستان اور دوسرے ملکوں سے جن سپاہیوں کو میدانِ جنگ میں بھیجا جاتا ہے انہیں بزدل اور مفلوج بنا کر بھیجا جاتا ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جو اپنی مجالس میں روزانہ جرمنی کی بہادری کے قصے دُہراتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں آج اُس نے اتنے آدمی مار ڈالے اور آج اتنے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔وہ دن اور رات لوگوں کو مفلوج بناتے ہیں۔وہ صبح اور شام لوگوں کو بُزدل بناتے ہیں۔وہ اٹھتے بیٹھتے ان کی ہمت کو پست ، ان کے ارادوں کو مُردہ اور ان کے جذبات کو پامال کرتے ہیں اور انہیں ناکارہ اور مفلوج بنا کر میدانِ جنگ میں بھیجتے ہیں۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ گاؤں میں بعض دفعہ پولیس کا ایک آدمی بھی چلا جائے تو سارا گاؤں اُس سے کانپنے لگ جاتا ہے؟ پھر تمہیں کیا ہوا کہ تم اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اصل طاقت تعداد میں نہیں بلکہ رُعب میں ہے۔اگر تم جرمن قوم کا رُعب پھیلاتے ہو، اگر تم اس کی بہادری کے قصے بیان کرنے سے باز نہیں آسکتے اور اگر تمہیں دن رات اُس کی تعریف کرنے سے فرصت نہیں حالانکہ تمہارا اپنا باپ میدانِ جنگ میں گیا ہوا ہوتا ہے یا تمہارا اپنا بھائی میدانِ جنگ میں گیا ہوا ہوتا ہے یا تمہارا کوئی اور رشتہ دار میدانِ جنگ میں گیا ہوا ہوتا ہے تو یاد رکھو تم وہ ہو جو اس قسم کی باتوں سے اپنے باپ کو قتل کراتے ہو، اپنے بیٹے کو قتل کراتے ہو، اپنے بھائی کو قتل کراتے ہو، اپنے رشتہ داروں کو قتل کراتے ہو اور اپنے شہر والوں اور اپنے ملک والوں ا کو قتل کراتے ہو حالانکہ اگر تمہارے باپ یا تمہارے بیٹے یا تمہارے بھائی کو اگر کوئی اور شخص قتل کرنے کا ارادہ بھی کرے تو تم اسے قتل کر دو۔پھر میں کہتا ہوں اگر تم اور باتوں کو جانے بھی دو تو اس بات کو تم کس طرح نظر انداز کر سکتے ہو کہ جنگ میں سینکڑوں احمدی بھی گئے ہوئے ہیں کیا اگر تمہارا سگا بیٹا اس جنگ میں گیا ہوا ہوتا تو تم ویسی ہی باتیں کرتے جیسی اب کرتے ہو؟ اگر نہیں تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ان میں سے اگر کسی ایک کو دکھ پہنچتا ہے تو سارے مسلمان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔یہی اخوت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم میں قائم کی۔پس اگر تمہیں کسی اور کا احساس نہیں تو کم سے کم اپنے ان بھائیوں کا ہی احساس کرو جو میدان جنگ میں گئے ہوئے