خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 537
خطابات شوری جلد دوم ۵۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء تھے تو میں نے یہ خیال ترک کر دیا کیونکہ میں نے سمجھا کہ اس مثال کو سامنے رکھ کر لوگ عام طور پر ایسا کرنے لگیں گے اور ایک خاندان کے لحاظ سے تو گو یہ فعل احمدیت کے نقطہ نگاہ سے مفید ثابت ہومگر ہزار خاندانوں کو نقصان پہنچ جائے گا۔مومن کی عقل و فہم کا امتحان پس مومن کو ہر وقت یہ دیکھنا چاہئے کہ کس وقت خدا تعالی کا منشاء کیا ہے۔ایسی اجازت دراصل مومن کی عقل و فہم کا امتحان ہوتی ہے۔جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ نماز پڑھو تو یہ اخلاص کا امتحان ہوتا ہے کیونکہ نماز ہر حال میں فرض ہے لیکن جہاں اجازت ہو کہ آدمی چاہے تو کرے اور چاہے تو نہ کرے وہاں اُس کی عقل اور فہم کا امتحان ہوتا ہے۔دینی امور میں تفقہ بھی ضروری ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ کہیں باہر تشریف لے گئے نماز کا وقت ہوا تو حضرت عباس نے لوٹا لا کر آپ کو وضو کرایا۔آپ نے دعا فرمائی کہ اللَّهُمَّ فَقَهُهُ فِي الدین کا یعنی اے اللہ اس نے عقل سے کام لیا ہے اس کی عقل کو دینی امور میں تیز کر دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کئی بار صرف یہ بتانے کے لئے کہ مومن ہونا ہی کافی نہیں بلکہ عقل بھی تیز ہونی چاہئے ایک مثال دیا کرتے تھے۔فرماتے کسی انسان کا دوست ایک ریچھ تھا۔اس شخص کی ماں بیمار تھی اور وہ اس کے پاس بیٹھا مکھیاں اُڑا رہا تھا کہ اسے تکلیف نہ ہو۔کسی نے اسے باہر بلایا تو وہ اپنے جگہ پر مکھیاں اُڑانے کے لئے ریچھ کو بٹھا گیا۔ریچھ نے مکھیاں اُڑانی شروع کیں تو ایک مکھی بار بار آ کر وہیں بیٹھے وہ اسے اُڑائے مگر وہ پھر آ کر بیٹھ جائے۔اب اگر آدمی ہوتا تو سمجھتا کہ مکھی کا کام بیٹھنا ہے اور میرا کام اسے ہٹانا مگر ریچھ میں عقل تو تھی نہیں اس نے سوچا کہ اسے ایسا ہٹا نا چاہئے کہ پھر نہ آ کر بیٹھ سکے۔پس اس نے ایک بڑا سا پتھر اٹھایا اور جب مکھی آکر بیٹھی تو زور سے پتھر اس پر دے مارا۔لکھی نے تو کیا مرنا تھا اس سے اس کے دوست کی ماں کی جان نکل گئی۔تو خالی اخلاص ہر موقع پر کام نہیں آتا بلکہ عقل بھی ضروری ہے۔پس جہاں تو خدا تعالیٰ نے کسی کام کا حکم دیا ہے وہاں تو صرف اخلاص کا امتحان ہے۔مگر جہاں اجازت دی ہے چاہو کرو چا ہو نہ کرو وہاں عقل کا امتحان لیا ہے۔وہاں یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا انسان اس اجازت سے موقع و محل کے لحاظ سے فائدہ اٹھاتا ہے یا بے موقع۔آیا اندھا دھند فیصلہ کرتا ہے یا