خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 538

خطابات شوری جلد دوم ۵۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء موازنہ کر کے دیکھتا ہے کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا نہ کرنا چاہئے۔پس اگر غیر احمدی لڑکی سے رشتہ کی اجازت ہے تو یہ ہماری عقل اور فہم کا امتحان ہے اور یہ دیکھنا ضروری ہے کہ لینا مفید ہے یا نہ لینا اور میں سمجھتا ہوں موجودہ حالات کے لحاظ سے یہی ضروری ہے کہ اس حد بندی کو قائم رکھا جائے۔دراصل شریعت کی اجازت بھی حالات کے مطابق ہی استعمال کی جائے تو مفید ہو سکتی ہے۔ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ اجازت کے پہلو کی طرف قوم زیادہ راغب ہو جاتی ہے تو پابندی لگانا ضروری ہو جاتا ہے اور ایک وقت اس طرف توجہ ہی نہیں رہتی تو اسے جاری کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔جب کوئی قوم نئی نئی بنتی ہے تو جن لوگوں سے نکل کر آتی ہے اُن کی طرف لوٹنے کے لئے اس کے اندر زیادہ میلان ہوتا ہے اس لئے ایسے موقع پر پابندی لگا نا ضروری ہو جاتا ہے مگر جب فاصلہ زیادہ ہو جائے تو طبعا اس سے دور ہو جاتی ہے۔ایسے وقت میں ایک دوسرے سے قریب ہونے کے لئے اجازت سے فائدہ اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے۔مثلاً کئی دفعہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ ہمارے لوگ ہندو عورتوں سے شادیاں کریں۔اکبر کے زمانہ میں ایسی شادیاں ہوئیں مگر ان سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکا کیونکہ ہند و عام طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ یہ شادیاں جبر سے ہوئیں مگر اب ایسا وقت نہیں ہے۔اب اگر ایسی شادیاں ہوں تو انہیں جبر کا نتیجہ نہیں کہا جا سکتا اور میں نے کئی تو مسلموں سے کہا ہے کہ میں روپیہ دیتا ہوں اور تم شادیاں کرو۔تو ایسے وقت میں ہندو عورتوں سے شادیاں کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے کیونکہ اب اس بات کا کوئی خطرہ نہیں کہ مسلمان ہندو ہو جائیں گے یہ بات اب ناممکن ہے۔مگر ہمارے ہاں اب یہ حالت ہے کہ اگر ایک شخص احمدی ہے تو اس کے خاندان کے دس غیر احمدی ہیں۔اب اگر اس اجازت سے فائدہ اٹھانے کی عام اجازت دے دی جائے تو اس بات کا بھی احتمال ہو سکتا ہے کہ باقی سب رشتہ دارمل کر اس اکیلے کو اپنے ساتھ ملا لیں۔اس وقت کئی دوستوں نے ایسی مثالیں لکھ کر بھیجی ہیں کہ غیر احمدی لڑکیاں جب احمدیوں کے ہاں بیاہی گئیں تو احمدی ہو گئیں مگر سوال یہ ہے کہ غیر احمدی لڑکیوں کا احمدی ہو جانا اتنا مفید نہیں جتنا کسی احمدی کا غیر احمدی ہو جانا مضر ہے۔فرض کرو ۱۰۰ رشتے غیر احمد یوں