خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 536
خطابات شوری جلد دوم ۵۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء ہوئے اجازت دینے یا نہ دینے کا سوال اُس کے اختیار میں رہے۔اگر وہ دیکھے کہ کسی کی غیر احمدی لڑکی سے شادی اس کے نیز اس کے خاندان کے لئے احمدیت کے نقطہ نگاہ سے مضر ہے تو وہ اسے روک دے اور اگر وہ کوئی حرج نہ دیکھے بلکہ فائدہ کی امید ہو تو اجازت دے دے۔وہ صرف یہ دیکھے گا کہ کون سے گھر میں غیر احمدی لڑکی کا آنا مینر ہوسکتا ہے اور کون سے گھر میں مفید ہو سکتا ہے اسی لئے میں نے کثرتِ رائے کی تائید پر فیصلہ کر دیا ہے۔سے اس میں تعلقات کو قائم رکھنے، تبلیغ کا راستہ کھلا رہنے اور لڑکیاں کم ہونے کی وجہ سے ضرورت کو تو تسلیم کیا گیا ہے مگر صرف فیصلہ کسی ایسے ہاتھ میں رکھا گیا ہے جو سلسلہ کے مفاد کو مد نظر رکھ سکے۔یہ نظارت کا کام ہوگا کہ دیکھ لے جو شخص اجازت مانگتا ہے وہ خود اور اس کے متعلقین احمدیت میں پختہ ہیں یا کمزور؟ اور پھر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سلسلہ کے مفاد کے لحاظ سے مناسب مشورہ دے۔نظارت کو بھی اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے کہ اجازت کسی اصول کے ماتحت دی جائے۔یہ نہ ہو کہ جو درخواست دے اسے منظور کر لیا جائے۔اس صورت میں تو یہ ساری پابندی صرف ناظر کی عزت افزائی تک محدود ہو جائے گی۔بعض دوستوں نے کہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے غیر احمدیوں سے جو تعلقات توڑ دیئے ہیں مثلاً نماز، جنازہ وغیرہ وہ تو بند ہی ہیں جو اس نے کھلے رکھے ہیں وہ تو کھلے رہنے چاہئیں۔یہ صرف جذباتی باتیں ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کسی امر کی اجازت دی جاتی ہے تو اس کے معنی بھی یہ ہوتے ہیں کہ انسان اپنے حالات کے لحاظ سے یہ دیکھ لے کہ ایسا کرنا اس کے لئے مفید ہے یا مینر اور کس وقت اللہ تعالیٰ کا منشاء اس طرح پورا ہوتا ہے کہ اس اجازت سے فائدہ اٹھایا جائے اور کس وقت اس طرح کہ نہ اُٹھایا جائے ، ہر حالت میں یہ دیکھنا چاہئے کہ دین کا فائدہ کس میں ہے۔پس اجازت کے معنی ضروری طور پر یہ نہیں ہوتے کہ ان پر کسی قسم کی پابندی عائد کرنا جائز ہی نہیں۔ہمارے اپنے خاندان میں میری بیویوں کے غیر احمدی رشتہ دار ہیں اور ان سے ظاہری تعلقات بڑے اچھے ہیں اور میں سمجھتا تھا کہ اگر ہم اُن کی لڑکیاں لے آئیں تو بہت مفید ہوگا مگر جماعت میں جب میں نے اس طرف میلان دیکھا کہ احمدی اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کی لڑکیاں لانے کی طرف مائل