خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 532

خطابات شوری جلد دوم ۵۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء حالانکہ اس سے کئی بار منع کیا گیا ہے مگر پھر بھی جوش کی حالت میں اس کا خیال نہیں رکھا جاتا۔شورای کے آداب پس میں پھر یہ نصیحت کرتا ہوں کہ دوست باتوں میں اور مشوروں میں سنجیدگی کو مد نظر رکھیں اور ان کے اندر یہ احساس ہونا چاہئے کہ ہم نے دنیا میں ایک نیا انقلاب پیدا کرنا ہے اور ہماری باتوں پر آئندہ نسلیں دینی مسائل کی بنیا درکھیں گی۔ہمارے سپرد بہت بڑا کام ہے اور ایسے بڑے کام ہمیشہ خشیت اللہ کے ماتحت ہی سرانجام دیئے جاسکتے ہیں۔پس چاہئے کہ ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور اُس کی برتری کا جذبہ ہر وقت موجزن رہے، بے جا نکتہ چینی، تلخ فقرے نہیں ہونے چاہئیں ، بحث اور مناظرے کا رنگ نہیں ہونا چاہئے۔علماء کو ایک ضروری نصیحت میں نے افسوس کے ساتھ دیکھا ہے کہ ہمارے علماء کو بحث مباحثہ کا بہت شوق ہے حالانکہ یہ تو ایسی چیز ہے کہ اس سے جس قدر ممکن ہو بچنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہاما اس سے روکا گیا۔گو یہ جائز تو ہے مگر نا پسندیدہ ہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جائز چیزوں میں سے خدا تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناراض کرنے والی چیز طلاق ہے شاہ اسی طرح یہ بھی جائز تو ہے مگر پسندیدہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو شروع میں اجازت تھی مگر بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کر دیا۔جب بحث مباحثہ کی عادت ہو جائے تو دل سے خشیت مٹ جاتی ہے اور بعض اوقات تو انسان کو ایسی باتوں میں بھی بحث کی دلیری ہو جاتی ہے جن میں بحث مباحثہ جائز نہیں۔پس جہاں تک ممکن ہو بحث مباحثہ سے گریز کرو اور اخلاص کے ساتھ دوسرے کو بات سمجھاؤ اور اگر تم ایسا کرو گے تو دیکھو گے کہ اُس پر ضرور اثر ہوگا۔چاہئے کہ تمہاری شکلوں سے رقت ظاہر ہو، تمہاری شکلوں۔معلوم ہو کہ تمہارے دل خدا تعالیٰ کے خوف سے کانپ رہے ہیں۔اگر یہ حالت ہو تو ہو نہیں سکتا کہ دوسروں پر اس کا اثر نہ ہو۔لوگ بِالعموم اسی قلبی کیفیت سے متاثر ہوتے ہیں جو ایمان چاہتا ہے۔پس وہ کیفیت اپنے اندر پیدا کرو پھر تم دیکھو گے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت نازل ہوتی ہے۔اگر ایسی رقت اور ایسی خشیت پیدا کرو تو پھر تم دنیا کو فتح کر