خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 531
۵۳۱ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء غیر علماء اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے ایک مضمون دوستوں کے سامنے بیان کیا۔اس کے بعد میں مسجد مبارک کے اوپر جو کمرہ ہے اس میں بیٹھا تھا کہ میں نے باہر سے ڈاکٹر محمد رمضان صاحب اور مولوی محمد اسمعیل صاحب مرحوم کی آواز سنی کہ وہ آپس میں اس کے بارہ میں گفتگو کر رہے تھے۔ڈاکٹر صاحب کہتے تھے کہ حضرت خلیفہ اسیح نے یہ بات بیان کی ہے اور مولوی صاحب کہتے تھے کہ نہیں یہ نہیں یوں بیان کی ہے اور گو مولوی صاحب بڑے عالم تھے عربی، علوم احادیث ، قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے خوب واقف تھے اور ڈاکٹر صاحب کو ایسی واقفیت نہیں اور نہ وہ کوئی عالم ہیں مگر میں نے دیکھا کہ مولوی صاحب جو مضمون بیان کر رہے تھے وہ غلط تھا اور ڈاکٹر صاحب صحیح بیان کر رہے تھے۔تو بعض دفعہ معمولی علم رکھنے والے کی سمجھ میں بھی بات آ جاتی ہے اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ دوسروں کو سمجھائے مگر بڑی مشکل یہ ہے کہ دوست ایک دوسرے کو سمجھاتے نہیں ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض چھوٹے چھوٹے مسائل سے بھی بعض لوگ واقف نہیں ہیں۔مثلاً ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے نماز پڑھنے والے کے آگے سے نہ گزرنے کا۔مگر بہت سے لوگ اس سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔اسی طرح مسجد میں فضول باتیں نہ کرنے کا مسئلہ ہے کئی لوگ اس سے بھی ناواقف ہیں اور مسجد میں فضول باتیں کرتے رہتے ہیں اور کوئی ان کو منع بھی نہیں کرتا۔یہ معمولی باتیں ہیں مگر کئی لوگوں کو علم نہیں اور دوسرے بھی اُن کو نہیں بتاتے۔اگر دوست اس طرف توجہ کریں اور ایک دوسرے کو مسائل بتاتے اور سمجھاتے رہیں تو ایک سال بلکہ چھ ہی ماہ میں جماعت کی بہت اچھی تربیت ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجہ میں اخلاص میں بھی بہت ترقی ہو سکتی ہے۔وہابیوں کی مثال ہمارے سامنے ہے اُن کے جاہل لوگ بھی عام مسائل سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو بتاتے رہتے ہیں۔اگر ہمارے دوست بھی یہ فرض سمجھیں ، اپنی مجالس میں ، ملاقاتوں میں اس بات کو مدنظر رکھیں تو بہت فائدہ ہوسکتا ہے اور تربیت کے علاوہ تبلیغ میں بھی بہت مددمل سکتی ہے۔یہی مجلس شوری ہے اگر اس میں شامل ہونے والے نئے آنے والوں کو بتائیں کہ اس کے یہ یہ آداب ہیں یوں بات کرنی چاہئے تو وہ نہایت آسانی سے یہ باتیں سیکھ سکتے ہیں مگر میں نے دیکھا ہے کہ دوست آپس میں باتیں کرنے لگ جاتے ہیں