خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 533
خطابات شوری جلد دوم ۵۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء سکتے ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور لوگوں کی آنکھیں بھی کھول دے کہ وہ حقیقی نور کو دیکھ سکیں اور ہدایت پائیں۔“ غیر از جماعت لڑکیوں سے رشتہ کا مسئلہ سب کمیٹی نظارت امور عامہ کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ غیر احمدی لڑکی سے رشتہ کے بارہ میں موجودہ پابندی کو جاری رکھا جائے۔مرکز کی اجازت کے بغیر مزید تین سال کے لئے غیر احمدی لڑکی لینے کی اجازت نہ ہو۔چند ممبران نے اس بارہ میں اپنی آراء کا اظہار کیا اس کے بعد حضور نے فرمایا : - دوست مختلف خیالات سن چکے ہیں سوائے ان کے جنہوں نے وقت پر اپنے نام نہیں لکھوائے اور بعد میں بولنے کی کوشش کی۔اب جو دوست اس بات کے حق میں ہوں کہ موجودہ پابندی کو جاری رکھا جائے اور مزید تین سال کے لئے مرکز کی اجازت کے بغیر غیر احمدی لڑکی لینے کی اجازت نہ ہو وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۲۶۶ احباب کھڑے ہوئے۔جو دوست یہ چاہتے ہیں کہ یہ پابندی منسوخ کر دی جائے اور جماعت کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے کہ جو دوست مناسب سمجھیں غیر احمدی لڑکیاں لے لیں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر صرف ۲۴ ا حباب کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا :- میں کثرتِ رائے کی تائید میں فیصلہ کرتا ہوں مختلف دوستوں نے اس بارہ میں اپنے خیالات ظاہر کئے ہیں۔اس کی تائید میں بھی اور مخالفت میں بھی بالعموم دوستوں نے اس بات کو لیا ہے کہ غیر احمدی لڑکی لے لینے میں کیا نقصان ہے یا نہ لینے میں کیا فائدہ ہے۔میرے نزدیک ہمارے سامنے یہ سوال زیر بحث نہ تھا کہ غیر احمدی لڑکی کا رشتہ لینے میں کیا نقصان ہے یا نہ لینے میں کیا فائدہ یا نقصان ہے۔یہ بات تو ظاہر ہے کہ جس بات سے خدا تعالیٰ نے منع نہیں کیا اُس میں ضرور کچھ فوائد ہیں اور جن کو ناجائز قرار دیا ہے اُن میں بھی اتمهما اكبرُ مِنْ نَفْعِهِما ل کا اصول ہے یعنی فوائد تو ان میں بھی ہیں مگر ان کے فوائد سے ان کی مضرتیں زیادہ ہیں۔اگر شراب اور جوئے میں بھی کچھ نہ کچھ منافع ہیں تو