خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 496

۴۹۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء خطابات شوری جلد دوم سے مراد وہی عبادتیں ہیں جو انسان دُنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضاء اور خوشنودی کے حصول کے لئے بجا لاتا ہے۔وہ نمازیں پڑھتا ہے، وہ روزے رکھتا ہے، وہ حج کرتا ہے، وہ زکوۃ دیتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اور اوامر پر عمل کرتا اور نواہی سے بچتا ہے۔ان عبادات میں جو روحانی لذتیں ہیں اور ان عبادات کے نتیجہ میں جس طرح قلب میں صفائی پیدا ہوتی اور انسان کو خدا تعالیٰ کے قرب اور اُس کے وصال کا لطف محسوس ہوتا ہے وہی اگلے جہان میں پھلوں کی صورت میں متمثل ہو کر اس کے سامنے آئے گا۔دُنیا میں جب ایک مومن کامل خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اُسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا اسے خدا کا قرب حاصل ہو گیا۔روزہ رکھتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ گویا خدا اُس کے ہاتھ آ گیا۔صدقہ دیتا ہے تو وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ خدا اس کے سامنے آ گیا۔اسی طرح حج اور زکوۃ وغیرہ عبادات جب کوئی صدق دل کے ساتھ بجالاتا ہے تو اسے اپنے اندر ایک روحانی کیف محسوس ہوتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی محبت کو آسمان سے اُترتے اور اپنی رگ رگ میں سرایت کرتے دیکھتا ہے۔یہ روحانی لذتیں ہی وہاں پھلوں کی صورت میں مومنوں کو ملیں گی اور یہ پھل اُتوابه متشابھا کے مطابق ملتے جلتے ہوں گے یعنی جس رنگ میں کسی نے عبادت کی ہوگی اُسی رنگ میں وہ عبادت متشکل ہو کر اس کے سامنے آجائے گی۔اب دیکھو ان معنوں نے انسانی اعمال میں کس قدر تغیر پیدا کر دیا۔اگر تم نماز پڑھتے ہو اور اس نماز میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور خشیت سے تمہارا دل بھرا ہوا ہوتا ہے، تمہاری آنکھیں پرنم ہوتی ہیں، تمہارے اندر ایک سوز اور گداز ہوتا ہے اور تم ایک لذت اور سرور کے ساتھ نماز پڑھتے ہو تو تمہیں اس نماز کے نتیجہ میں جو پھل ملے گا وہ بھی ویسا ہی لذیذ ہوگا جیسے دُنیا میں تمہاری نماز لذیذ تھی۔لیکن اگر تم نے نماز اچھی طرح نہیں پڑھی ہوگی ، تم بظاہر تو نماز میں شامل ہو گے مگر تمہارا دل کہیں ہوگا اور خشوع و خضوع اور لذت تمہیں حاصل نہیں ہو گی تو تمہیں جنت میں جو پھل ملے گا وہ بھی اسی نماز کے مشابہہ ہو گا اور اس کے کھانے سے بھی تمہیں کوئی زیادہ لذت نہیں آئے گی۔پس اُخوابه متشابھا کے یہ معنے ہیں کہ جنت کے پھل ہر انسان کی روحانی عبادات کے مشابہ ہوں گے۔جس قسم کی لذت اسے دُنیا میں روحانی عبادات کے کرتے