خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 497
۴۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء خطابات شوری جلد دوم وقت حاصل ہوتی تھی۔اسی قسم کی لذت اسے اگلے جہان میں ان پھلوں کو کھاتے وقت حاصل ہوگی کیونکہ اُتُوا به متشابها وہ پھل ان روحانی کیفیات سے ملتے جلتے ہوں گے۔اُتوا به متشابھا کے یہ معنے بھی ہیں کہ جنت کے تمام پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں گے۔جیسے زید اور بکر کو آم ملے گا ویسا ہی آم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ملے گا اور بظا ہر وہ سب آپس میں مشابہہ ہوں گے مگر اندرونی ذائقہ اور مزہ ہر ایک کا الگ الگ ہو گا کیونکہ ہر ایک کی نمازیں اور ہر ایک کے روزے الگ الگ کیفیات کے حامل ہوتے ہیں۔ہر انسان کے چندہ میں فرق ہے۔کوئی تو ایسا ہوتا ہے جو چندہ اس نیت سے دیتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے اور کوئی چندہ تو دے دیتا ہے مگر دل میں یہ کہتا جاتا ہے کہ میں کمبخت کس مصیبت میں پھنس گیا۔اگر چندہ دوں تو بال بچے بھوکے مرتے ہیں اور اگر چندہ نہ دوں تو جماعت میں بدنامی ہوتی ہے۔گویا چندہ دیتے وقت اُسے لذت نہیں بلکہ تکلیف محسوس ہو رہی ہوتی ہے جیسے سخت کھٹا اور ترش آم آدمی کھانے لگے تو ادھر وہ اس آم کو چوستا ہے اور اُدھر اُس کے پٹھے کھنچے چلے جاتے ہیں، جسم پر لرزہ طاری ہوتا جاتا ہے اور دل سخت منقبض ہو رہا ہوتا ہے۔لیکن اس کے مقابلہ میں ایک اور آم ہوتا ہے جولکھنوی یا ملیح آبادی ہوتا ہے انسان اسے چوستا ہے تو اُسے ایسی لذت حاصل ہوتی ہے کہ اسے چھوڑنے کو اس کا جی نہیں چاہتا۔اب آم تو دونوں ہیں اور دونوں آپس میں ملتے جلتے ہیں کھٹا اور ترش آم بھی اور ملیح آبادی آم بھی مگر ان دونوں کے ذائقہ میں زمین و آسمان کا فرق ہوگا۔اسی طرح بیروں کو لے لیا جائے ، کوئی بیر تو بڑے میٹھے ہوتے ہیں اور کوئی سخت کسیلا اور بدمزہ ہوتے ہیں۔جنہیں پنجابی میں ”گل گھوٹو“ کہتے ہیں۔انسان کھاتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا اس کا گلا گھٹنے لگا۔اسی طرح خربوزے بظاہر سب یکساں ہوتے ہیں مگر کوئی تو اتنے بد بودار، کھٹے اور ترش ہوتے ہیں کہ ان کی ایک قاش تک آسانی سے نہیں کھائی جاتی اور کوئی اتنے میٹھے ہوتے ہیں کہ مدتوں یا درہتے ہیں۔یہی حال سردے کا ہے۔ظاہری شکل سب کی ایک ہوتی ہے مگر ذائقہ اور لذت میں ان میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔پس اُتوابه متشابهاً کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ