خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 495
خطابات شوری جلد دوم ۴۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء تو ہماری تمام کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم اپنے دوست اور محبوب اور پیارے کے لئے وہ چیز لے جائیں جو اس نے پہلے نہ دیکھی ہو اور وہ ایسی اعلیٰ ہو کہ ویسی اعلیٰ چیز اس کی نظر سے پہلے کبھی نہ گزری ہو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ اگر جنتیوں پر احسان جتانا چاہتا تو کہتا کہ ملیح آبادی آم بھی اچھے ہوتے ہیں مگر وہ کمبخت بھلا جنت کے آموں کا کیا مقابلہ کر سکتے ہیں۔اسی طرح ماجھے کی بھینسیں بے شک اچھا دودھ دیتی ہیں مگر جنت کے دودھ کے مقابلہ میں اس دودھ کی حیثیت ہی کیا ہے مگر مفسرین ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ جیسے دُنیا کے آم اور خربوزے اور دوسرے پھل ہیں اسی طرح کے پھل جنتیوں کو بھی ملیں گے اور جب وہ کھائیں گے تو کہیں گے کہ ہم تو دُنیا میں بھی یہ پھل کھا چکے ہیں حالانکہ اول تو یہ معنے درست ہی نہیں لیکن اگر بالفرض درست بھی ہوں تو بھی صرف پہلی دفعہ اس قسم کے پھل ملنے پر جنتیوں کا یہ کہنا درست ہوسکتا ہے کہ هذا الذي رزقنا مِن قَبْلُ یہ پھل تو ہم پہلے بھی کھا چکے ہیں۔بار بار ایک ہی قسم کا پھل ملنے پر بار بار اُن کا یہ فقرہ دُہرانا اپنے اندر کوئی مفہوم نہیں رکھتا۔اور پھر اس قسم کا فقرہ یا تو خوشی کی وجہ سے دُہرایا جاتا ہے یا حسرت کی وجہ سے یعنی یا تو وہ فقرہ اس موقع پر دُہرایا جا سکتا ہے جب کوئی شخص کسی مصیبت میں پھنس جائے اور جب بھی وہ واقعہ اسے یاد آئے تو حسرت سے کہے کہ ہائے افسوس یہ مصیبت پیچھا نہیں چھوڑتی اور یا اس موقع پر دُہرایا جا سکتا ہے جب کسی کونٹی کا میابی یا خوشی حاصل ہو اور وہ خوش ہو کر کہے کہ ایک انعام مجھے فلاں موقع پر بھی مل چکا ہے مگر یہ کون سی خوشی کا مقام ہے کہ آم کے بعد آم اور خربوزے کے بعد خربوزہ وہی مل رہا ہے جو دُنیا میں اُنہوں نے کھایا اور وہ کہتے چلے جاتے ہیں کہ یہ تو وہی پھل ہیں جو ہم پہلے کھا چکے ہیں۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ اگر مفسرین کے مفہوم کو تسلیم کر لیا جائے تو جنتیوں کا یہ قول ایک شکوہ کا اظہار تو ہو سکتا ہے مگر اسے خدا تعالیٰ کے احسانات کا شکر قرار نہیں دیا جا سکتا۔روحانی لذات اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کے جو معنے کئے ہیں وہ کتنے لطیف اور عظیم الشان ہیں اور ان سے کس قدر اصلاح نفس ہو سکتی ہے۔آپ فرماتے ہیں تم نے اس آیت کو سمجھا نہیں اور نہ تمہارا ذہن اس امر کی طرف منتقل ہوا ہے کہ ان میووں سے کیا مراد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان میووں