خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 493
خطابات شوری جلد دوم ہمیں پہلے مل چکے ہیں۔۴۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء یہ معنے قرآنی الفاظ کے نسبتاً زیادہ قریب سمجھے جا سکتے ہیں مگر اس پر بھی ایک ایسا اعتراض وارد ہوتا ہے جو ان معنوں کو کسی صورت میں قائم نہیں رہنے دیتا اور وہ یہ کہ اگر اثوابه متشابھا کے یہی معنے ہیں کہ وہاں کے آم یہاں کے آموں کے مشابہہ ہوں گے اور وہاں کے خربوزے یہاں کے خربوزوں کے مشابہہ ہوں گے تو گویا دُنیا اور جنت کے پھل آپس میں مشابہہ ہو گئے۔جیسے یہاں آم ملتے ہیں ویسے ہی وہاں آم ملیں گے، جیسے یہاں خربوزے ملتے ہیں ویسے ہی وہاں خربوزے ملیں گے اور جیسے یہاں اور کئی قسم کے پھل ملتے ہیں اسی طرح وہاں کھانے کے لئے کئی قسم کے پھل ملیں گے حالانکہ قرآن کریم سے ہی پتہ لگتا ہے کہ جنت کی نعمتیں دُنیا کی نعمتوں سے بالکل مختلف ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی فرماتے ہیں کہ لَاعَيُنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بشر کہ جنت کی نعمتیں ایسی ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ انسان کے واہمہ اور خیال میں بھی گزریں۔گویا وہ چیزیں جو ہمارے دیکھنے یا سننے سے تعلق رکھتی ہیں یا جن کو ہم معین صورت میں اپنے دماغ میں لا سکتے ہیں جنت کی نعمتیں ان سے بالکل مختلف ہیں اور جب جنت کی نعمتوں کی یہ حقیقت ہے تو اُتُوا به متشابھا کے کیا معنی ہوئے۔پھر ان معنوں کو تسلیم کر لینے کی صورت میں هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ کہنا بھی تعریف نہیں بلکہ مذمت ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ یہ تو مان لیا کہ پہلی دفعہ جب انہیں آم کھانے کے لئے ملے تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ آم تو ہم دُنیا میں بھی کھا چکے ہیں مگر ہر آم کے ملنے پر اُن کا یہ کہنا کہ یہ آم تو ہم پہلے بھی کھا چکے ہیں اپنے اندر تنقیص کا پہلو رکھتا ہے، تعریف کا پہلو نہیں رکھتا۔پھر یہ عجیب بات ہے کہ دُنیا میں تو ادنیٰ سے ادنی انسان یہ کوشش کرتا ہے کہ جب اس کے ہاں اس کا کوئی عزیز یا دوست یا مہمان آئے تو وہ اسے عمدہ سے عمدہ کھانا پیش کرے جو اس نے پہلے کبھی نہ کھایا ہومگر خدا جب جنتیوں کو جنت میں نعمتیں دینے لگے تو دُنیا کی چیزیں اُٹھا اُٹھا کر ان کے سامنے پیش کر دے۔دُنیا میں ہم دیکھتے ہیں جب کسی کے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہوتا ہے تو عورت چاہتی ہے کہ مہمان کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ کھانا تیار کیا جائے۔چاول پکائے گی تو خواہش رکھے گی