خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 494

خطابات شوری جلد دوم ۴۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء کہ میرے پکے ہوئے چاول اتنے اچھے ہوں کہ اس نے ویسے چاول پہلے کبھی نہ کھائے ہوں۔پر اٹھا پکائے گی تو کہے گی میں ایسا اچھا پر اٹھا پکاؤں کہ ویسا پر اٹھا اس نے پہلے کبھی نہ کھایا ہو۔ہمارے خاندان کے بچے کا ہی ایک لطیفہ ہے۔میاں بشیر احمد صاحب کا ایک لڑکا ایک دفعہ اماں جان کے ہاں گیا اور وہاں سے پر اٹھا کھا کے آیا جو اُسے بہت ہی پسند آیا اور آکر اپنی والدہ سے کہنے لگا کہ مجھے بھی ایسا ہی پر اٹھا پکا دو جیسا اماں جان نے پکایا ہے۔خیر دوسرے دن اُنہوں نے اُسے پر اٹھا پکا کر دے دیا۔وہ کھا تا رہا کھا تا رہا، مگر زبان سے اس نے کچھ نہیں کہا۔البتہ اُس کے چہرہ پر ایسے آثار تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کوئی بات سوچ رہا ہے۔جب کھا چکا تو کہنے لگا اماں! یہ پراٹھا بھی اچھا ہے پر اماں جان دے پر اٹھے دی تے حداں ہی ٹٹ گیاں ہیں۔تو ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے عزیز کے آگے ایسی اعلیٰ چیز رکھے جو اس نے پہلے کبھی نہ کھائی ہو۔ہم اس کے کھانے کے لئے کیلا منگوائیں گے تو کہیں گے کہ ایسا اچھا کیلا لا نا جو اس نے پہلے کبھی نہ کھایا ہو۔خربوزہ منگوائیں گے تو تاکید کریں گے کہ بہترین خربوزہ لانا جو ایسا میٹھا ہو کہ ویسا میٹھا خربوزہ اس نے پہلے کبھی نہ کھایا ہو۔ایک روایت ہمارے ایک مرحوم دوست لاہور کے میاں تاج دین صاحب تھے جن کے لڑکے میاں مظفر الدین صاحب آجکل پشاور میں بجلی کا کام کرتے ہیں۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک قسم کا عشق تھا۔جب آپ لاہور سے قادیان آتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ضرور کوئی نہ کوئی تحفہ لاتے۔اُن کی عادت تھی کہ دکاندار کے پاس جاتے اور کہتے اعلیٰ سے اعلیٰ سیب دو میں حضرت صاحب کے لئے تحفہ لے جانا چاہتا ہوں۔وہ مثلاً روپیہ کے ۱۲ سیب دیتا، یہ کہتے کہ ان سیبوں سے بھی اعلیٰ سیب دو، خواہ روپیہ کے تم مجھے دس دے دو مگر بہر حال اعلیٰ ہوں میں حضرت صاحب کے لئے قادیان تحفہ لے جانا چاہتا ہوں۔وہ وہی سیب جو روپیہ کے ۱۲ ہوتے دس دے دیتا اور کہتا کہ یہ بہت اعلیٰ ہیں اور وہ دکاندار پر اعتبار کر کے لے لیتے اور یہ سمجھ لیتے کہ دکاندار نے اچھے سے اچھے سیب دیئے ہیں۔