خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 485

خطابات شوری جلد دوم ۴۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء سبق آموز واقعات میں گزشتہ دنوں کراچی میں تھا کہ ایک غیر احمدی گریجوایٹ جو عرب کے علاقہ میں کام کرتے ہیں مجھ سے ملنے آئے اور کہنے لگے کہ ریل میں مجھے آپ کا ایک مرید ملا جس نے مجھے ایک رسالہ دیا اور پھر کچھ تبلیغ بھی کی مگر جب میں نے اس سے نبوت کے متعلق سوال کیا تو وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکا۔اس کے بعد وہ مجھے خیر خواہ بن کر کہنے لگا آپ ایسا انتظام کریں کہ آپ کی جماعت میں جو جاہل لوگ ہیں وہ دوسروں کو تبلیغ نہ کیا کریں۔کیونکہ ایسے آدمیوں کو تبلیغ کے لئے بھیجنا بالکل فضول ہے صرف ایسے ہی لوگوں کو بھجوانا چاہئے جو تمام مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں۔اس کے بعد انہوں نے مجھ سے وہی سوال کیا جس کا میں نے انہیں جواب دیا اور پوچھا کہ کیا اب آپ کی سمجھ میں یہ بات آ گئی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں اب میں یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھ گیا ہوں۔پھر میں نے اُن سے کہا آپ یہ کہتے ہیں کہ وہ ان پڑھ تھا اور تبلیغ کی اجازت ایسے ہی لوگوں کو دینی چاہئے جو پڑھے لکھے ہیں، حالانکہ آپ میرے پاس اُسی کی تبلیغ کے نتیجہ میں آئے ہیں۔اگر وہ آپ کو تبلیغ نہ کرتا تو آپ یہاں بھی نہ آتے۔بیشک آپ بی۔ایس سی ہیں اور وہ شاید پرائمری تک پڑھا ہوگا ہو مگر اُس پرائمری پڑھے ہوئے شخص کے دل میں ایک جوش تھا اور اُس نے چاہا کہ وہ نعمت جو اُس کے پاس ہے آپ اس سے محروم نہ رہیں چنانچہ اُس نے آپ کو تبلیغ کی اور آپ اسی کے نتیجہ میں مجھ سے ملنے آگئے پس آپ کو اس کے اخلاص کی قدر کرنی چاہئے۔تو جماعت کے دوستوں کے اخلاص میں کوئی شبہ نہیں۔اسی وجہ سے بعض بالکل ان پڑھ ہوتے ہیں مگر اپنے دل میں تبلیغ کا ایسا جوش رکھتے ہیں جو بہت ہی قابلِ قدر ہوتا ہے۔اس کراچی کے سفر میں گجرات کا ایک نوجوان میرے ساتھ تھا اُس کے طریق عمل سے بعض دفعہ تکلیف بھی ہوتی مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنے اندر جوش اور اخلاص رکھتا تھا۔چنانچہ ایک سٹیشن پر اسے گجرات کا ہی ایک آدمی مل گیا وہ اُس کا واقف نہیں تھا صرف زبان سے اُس نے سمجھ لیا کہ یہ بھی گجرات کا ہے۔چنانچہ اُس نے اُس سے باتیں شروع کر دیں اور کہا کہ تم یہاں کس طرح آئے ہو؟ اُس نے بتایا کہ میں سندھ میں نوکر ہوں۔غرض اسی طرح باتیں کرتے کرتے وہ اُسے میرے پاس لا کر کہنے لگا ان سے مصافحہ کرو۔چنانچہ