خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 484
۴۸۴ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء کا بھی وقت ضائع کرتے ہیں۔اسی طرح سچ نہ بولنا ، وفائے عہد نہ کرنا، محنت نہ کرنا ایسے نقائص ہیں جو عام ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان نقائص کو دور کریں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ جب وہ کوئی بات کریں تو سوچ سمجھ کر کیا کریں۔بغیر تحقیق کے یونہی لغو باتوں میں حصہ نہ لیا کریں۔محنت کی عادت ڈالیں، ایفائے عہد کریں، سچ سے کام لیں اور عمل صحیح اپنے اندر پیدا کریں۔جب تک ہم ان نقائص کو دور نہیں کریں گے اُس وقت تک وہ بات پیدا نہیں ہوسکتی جو جماعتوں کو کامیاب کیا کرتی ہے۔صحیح علم کی ضرورت اسی طرح علیم صحیح کے بغیر بھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی اور میں دیکھتا ہوں کہ اس میں بھی ابھی بہت کچھ کمی ہے۔گو کچھ عرصہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کے امتحان کا سلسلہ شروع ہے اور یہ بہت ہی مفید ہے مگر کتنی جماعتیں ہیں جہاں قرآن کا درس ہوتا ہے، جہاں حدیث کا درس ہوتا ہے، جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا درس ہوتا ہے۔جب ان کو معلوم ہی نہیں کہ خدا نے کیا کہا ہے، جب ان کو معلوم ہی نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کیا احکام ہیں اور جب ان کو معلوم ہی نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انہیں کس مقام پر کھڑا کرنا چاہتے تھے اور کس قسم کی قربانیوں کا ان سے مطالبہ فرماتے تھے تو بتاؤ وہ کس طرح کوئی مفید کام کر سکتے ہیں۔آپ لوگ جو نمائندہ بن کر آئے ہیں آپ کے متعلق میں یہ سمجھنے کا حق رکھتا ہوں کہ آپ لوگ اپنی جماعتوں میں زیادہ بارسوخ ، زیادہ سمجھ دار اور زیادہ اثر رکھنے والے ہیں۔پس آپ کو میں یہ کہتا ہوں کہ آپ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور پہلے خود سلسلہ کا علم حاصل کریں۔قرآن پڑھیں ، احادیث پڑھیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھیں اور پھر جماعت کے اندر اس قسم کی بیداری پیدا کر دیں کہ ان کا علم ایسا کامل ہو جائے کہ وہ اسلام کی دکھ اور مصیبت کو سمجھ جائیں اور ان پر اشاعتِ اسلام اور اشاعت احمدیت کی اہمیت پوری طرح واضح ہو جائے۔اس کے بعد میں سمجھتا ہوں ان میں قربانی کا مادہ آپ ہی آپ پیدا ہو سکتا ہے۔اس وقت میں دیکھ رہا ہوں کہ ہزاروں ایسے احمدی ہیں جن کو سلسلہ کے موٹے موٹے مسائل بھی معلوم نہیں۔ان میں جوش ہے، اخلاص ہے مگر علم صحیح کی ان میں کمی ہے۔