خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 486
۴۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء خطابات شوری جلد دوم اُس نے مصافحہ کیا۔پھر وہ کہنے لگا انہیں دعا کے لئے بھی کہو۔چنانچہ اس نے دعا کے لئے بھی کہا۔پھر کہنے لگا اب تمہیں بیعت کر لینی چاہئے حالانکہ نہ اُس نے احمدیت کا نام سُنا ہوا تھا اور نہ اُسے مسائل وغیرہ کا کوئی علم تھا بس پہلے اُسے مصافحہ کرایا پھر اُسے کہہ دیا کہ ان سے اپنے لئے دعا کراؤ اور اس کے بعد اُس پر زور دینا شروع کر دیا کہ اب بیعت بھی کر لو۔میں نے اُسے سمجھایا کہ یہ تو احمدیت کے مسائل سے کچھ بھی واقفیت نہیں رکھتا اسے بیعت کے لئے کیوں مجبور کرتے ہو؟ مگر وہ بیچارہ یہی سمجھتا تھا کہ تبلیغ یہی ہے کہ دوسرے کو جھٹ بیعت کے لئے کہہ دیا جائے۔اسی طرح ایک اور اسٹیشن آیا تو وہاں قادیان کا ایک شخص کھڑا تھا مگر یہ اسے پہچانتا نہیں تھا۔دوڑ کر اس کے پاس پہنچا اور کہنے لگا آپ احمدی ہیں؟ اور جب اس نے کہاں ہاں۔تو کہنے لگا چنگا پھر الْحَمدُ لِلہ میں نے اسے کہا کہ تم اس طرح نہ کیا کرو۔اس طرح لوگوں کو ٹھوکر لگتی ہے۔مگر وہ کہنے لگا نہیں جی! اس طرح تبلیغ ہوتی ہے۔اپنے ذہن میں اس نے سمجھ رکھا تھا کہ جب احمدیت کچی ہے تو پھر اس کے لئے کسی دلیل کی کیا ضرورت ہے۔تو ہماری جماعت کے دوستوں کے اخلاص میں کوئی شبہ نہیں مگر افسوس ہے کہ ان میں سے کئی سے ہم نے صحیح رنگ میں کام نہیں لیا۔وہ ہیرے ہیں جو خدا نے ہمارے ہاتھ میں دیئے مگر ہم ان ہیروں کو کاٹ کر منڈی میں نہیں لے گئے بلکہ وہ پتھروں کی طرح ہمارے گھروں میں بیکار پڑے ہوئے ہیں۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ عورتوں اور مردوں کو اسلامی تعلیم سے واقف کیا جائے ، قرآن اور حدیث کا ہر جگہ درس جاری ہو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب لوگوں کو بکثرت پڑھنے کے لئے کہا جائے اور وقتاً فوقتاً ان کا امتحان لیا جائے تا ہماری جماعت کے بچے بچے میں وہ روح سرایت کر جائے جو خدا نے معرفت کے خزانوں کے ذریعہ ہمیں عطا کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے پہلے قرآن دنیا میں موجود تھا مگر مسلمان شکست پر شکست کھا رہے تھے ، بخاری موجود تھی، مسلم موجود تھی ، اسی طرح دوسری احادیث کی کتابیں موجود تھیں مگر مسلمان کفار کے حملوں کا شکار ہوتے چلے جا رہے تھے تب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے طاقت پاتے ہوئے قرآن کو اس