خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 475

خطابات شوری جلد دوم ۴۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء پس اگر دوسرے لوگ اس قربانی پر تیار نہ ہوں تو جو کارکن یہ قربانی کر رہے ہیں اُن سے میں کہتا ہوں کہ تم تمام ذمہ داری اپنی ہی سمجھو کیونکہ مومن پر سارے دین کی ذمہ داری ہوتی ہے اس کے کسی حصہ کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔بہر حال اس وقت جو سوال پیش ہے وہ یہ ہے کہ مجلس شوریٰ میں کارکنوں کی کٹوتی کے متعلق جو فیصلہ کیا گیا تھا آیا اسے قرض سمجھا جائے یا امداد تصور کیا جائے؟ اگر جماعت کے دوستوں نے بھی کچھ نہ کچھ کٹوتی کروانی ہے جیسا کہ اب تک وہ پانچ ہزار روپیہ دے کر کسی قدر کٹوتی کرا چکے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کارکنوں کی کٹوتی تمام کی تمام قرض کیوں سمجھی جائے ؟ اور اگر ساری جماعت نے اس میں حصہ نہیں لینا جیسا کہ عملاً اب تک جماعت نہایت قلیل ہی رقم دے کر اس کا اظہار کر چکی ہے تو سوال یہ ہے کہ کارکنوں سے جماعت کے مقابلہ میں کئی گنے زیادہ لے کر اس رقم کو قرض کیوں سمجھا جائے؟ گویا دونوں صورتوں میں اُلجھن ہے۔اگر ہم کارکنوں کی کٹوتی کو قرض سمجھیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب باقی جماعت بھی اس سلسلہ میں کٹوتی کروا رہی ہے تو یہ کیوں نہ کروائیں اور کیوں ان کی کٹوتی کو قرض سمجھا جائے۔اور اگر ان کی کٹوتی کو قرض نہ سمجھا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب باقی جماعت کے دوست جو آزاد ہیں اور گورنمنٹ سے پوری تنخواہیں وصول کرتے ہیں وہ دو فیصدی تک کٹوتی کرواتے ہیں تو یہ کارکن جو صرف گزارہ لیتے ہیں ان پر یہ ظلم کیوں کیا جائے کہ ان کے گزاروں میں سے ۱۲ سے ۲۵ فیصدی تک کٹوتی ہو اور پھر وہ قرض بھی شمار نہ ہو۔اس کے متعلق سب کمیٹی نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ کارکنوں کے گزاروں میں سے کٹوتی تو ہوتی رہے لیکن تین سال کے بعد یہ دیکھ لیا جائے کہ جماعت نے اس سلسلہ میں چندہ خاص کے ذریعہ اپنا کتنا حصہ ادا کیا ہے۔جتنا حصہ جماعت ادا کرے اُتنے حصہ کو تو کارکنوں کو کٹوتی میں سے امداد تصور کیا جائے مگر جو باقی حصہ رہ جائے اُسے قرض سمجھا جائے اور جب توفیق ہوا سے ادا کر دیا جائے۔چنانچہ سب کمیٹی کے اصل الفاظ یہ ہیں : - دو مطبوعہ تجویز نمبر۲ کے متعلق یہ مشورہ قرار پایا کہ جیسا کہ حضرت (خلیفه امسح ) ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ابتدائی تجویز میں کارکنوں کی کٹوتی کو قرضہ قرار دیا گیا ہے وہی صورت مناسب ہے اور قائم رہنی چاہئے مگر اس قرضہ میں سے وہ رقم منہا کی جانی ضروری