خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 474

خطابات شوری جلد دوم ۴۷۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء نہیں بلکہ ہر سچا دین ہے کیونکہ قرآنی اصطلاح میں تمام بچے ادیان کا نام اسلام رکھا گیا ہے۔پس ابراہیمی دین میں بھی انسانی قربانی جائز نہ تھی اور نواح کے دین میں بھی انسانی قربانی جائز نہ تھی یہ قربانی کا مطالبہ در حقیقت اسی امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے تھا کہ جب خدا تعالیٰ کے لئے کوئی قربانی کرنے والا نہ رہے تو اُس وقت انسان کو چاہئے کہ اپنے آپ کو فنا کر دے۔یہی اکلوتے بیٹے کی قربانی کرنے کا مفہوم تھا کیونکہ اکلوتے بیٹے کی قربانی کے بعد نسل ختم ہو جاتی ہے اور یہی وہ مفہوم ہے جسے زندہ قومیں ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا کرتی ہیں۔پس کا رکنوں میں سے جو لوگ قربانی کرنے والے ہیں ان میں سے جو اس قربانی کو چٹی سمجھتے ہیں اُن کی تو حیثیت ہی اور ہے۔لیکن جو مخلص ہیں اور سچے دل سے یہ قربانی کر رہے ہیں۔اُن سے میں یہ کہتا ہوں کہ اُنہیں صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ وه ۲۵ یا ۷۵ فیصدی دے رہے ہیں بلکہ اگر سلسلہ کی اعانت کے لئے اُنہیں اس سے بھی زیادہ قربانی کرنی پڑے تو انہیں اس کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے کیونکہ جب کوئی اور قربانی کرنے والا نہ ہو تو اس وقت قربانی کی قدر و قیمت اللہ تعالیٰ کے حضور بہت بڑھ جایا کرتی ہے۔یوں لوگوں نے اپنے بیٹوں کی اور ہزاروں لاکھوں انسانوں نے بھی قربانی کی ہے مگر ابراھیم کی قربانی اسی لئے زیادہ مقبول ہوئی کہ جب ابراھیم نے یہ قربانی کی اُس وقت روئے زمین پر اور کوئی اس قسم کی قربانی کرنے والا نہیں تھا۔جب بہت لوگ قربانی کرنے والے ہوں تو اُس وقت قربانی کی اہمیت زیادہ شاندار نہیں رہتی کیونکہ ایک دوسرے کو قربانی کرتے دیکھ کر بعض کمزور ایمان والے بھی قربانیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔جیسے سمندر میں اگر دس ہیں بہا در گود جائیں تو دس میں بزدل بھی اُن کو دیکھ کر گود جائیں گے لیکن اگر کوئی بھی گودنے کے لئے تیار نہ ہو اور ایک شخص نڈر ہو کر گود جائے تو وہ بہت زیادہ اعزاز کا مستحق سمجھا جائے گا۔حضرت ابراھیم علیہ السلام کی قربانی بھی اسی لئے افضل ہے کہ دوسرے لوگ اُس وقت قربانی کرتے ہیں جب عام طبائع میں ایک جوش ہوتا ہے اور وہ بھی اسی جوش سے متاثر ہو کر کہہ دیتے ہیں کہ ہم اپنا مال اور اپنی جان قربان کر دیتے ہیں مگر ابراھیم نے اُس وقت قربانی کی جب وہ اکیلا تھا اور جب اُسے کوئی اُبھارنے والا موجود نہیں تھا۔