خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 476
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء ہے جو انہی سالوں میں جماعت کے دوسرے دوستوں پر چندہ خاص کی صورت میں لگائی گئی ہے۔مثلاً اگر کسی کا رکن کی کٹوتی ایک سو روپیہ ہوئی ہے تو یہ ایک سو روپیہ سب کا سب قرضہ شمار نہ ہو بلکہ اگر چندہ خاص کی شرح کے مطابق ایسے شخص پر بیس روپیہ چندہ خاص لگتا ہو، تو وہ بیس روپیہ منہا کر کے صرف ۸۰ روپیہ قرضہ شمار ہو۔“ ” جو دوست سب کمیٹی کی تجویز کی تائید میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں“ ۲۸۲ آراء شمار کی گئیں۔پھر حضور نے فرمایا :- جن دوستوں کی یہ رائے ہو کہ یہ کٹوتیاں سب کی سب قرض سمجھی جائیں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ تین آراء شمار کی گئیں۔حضور نے فرمایا : - ایک امکان چونکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اس خیال کا ہو کہ یہ تمام کٹوتیاں سلسلہ کی امداد سمجھی جانی چاہئیں اس لئے جو دوست اس کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں“ صرف دو آراء شمار ہوئیں۔حضور نے فرمایا فیصلہ میں کثرت رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں“ چندہ نشر و اشاعت کے متعلق ایک تجویز بحث صدر انجمن احمدیہ پر بحث کے دوران بجٹ میں مکرم پنڈت عبداللہ بن سلام صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک پیسہ فنڈ کھولا جائے اور جلسہ سالانہ پر ہر آنے والا ایک ایک پیسہ دے۔اس غرض کے لئے صندوقچیاں بنوا کر رکھ دینی چاہئیں۔جس میں آتی دفعہ بھی اور پھر واپسی پر بھی ہر ایک دوست ایک ایک پیسہ ڈال دے۔اس طرح تبلیغ کے اخراجات میں جو ۱۰۲۵ روپے کی کمی کی گئی ہے اس کی بھی ضروررت نہیں رہے گی اور جلسہ سالانہ میں شریک ہونے والوں کی تعداد بھی معلوم ہو جائے گی۔اس تجویز کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :- دو پنڈت عبد اللہ بن سلام صاحب نے ایک تجویز پیش کی ہے جس کو بیان کرتے وقت اُنہوں نے ایک فقرہ یہ بھی استعمال کیا ہے کہ تبلیغی اخراجات میں یہ جو ۱۰۲۵ کی کمی کی گئی ہے