خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 468

خطابات شوری جلد دوم ۴۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء کہ یہاں صرف گزارہ ملتا ہے اور باہر تنخواہیں ملتی ہیں۔پس جن کا صرف گزارہ پر انحصار ہو ان پر ۷۵ فیصدی اور جنہیں تنخواہیں ملتی ہیں ان پر دو فیصدی بار آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں رکھتا۔لیکن بہر حال قانون کا سوال تھا اور چونکہ اس امر کی وضاحت رہ گئی تھی کہ کارکنوں کی یہ کٹوتی قرض شمار ہوگی یا نہیں ؟ اس لئے یہ معاملہ اب دوبارہ مجلس کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔جیسا کہ احباب کو معلوم ہے جماعت پر جو دو فیصدی بار ڈالا گیا تھا اس میں سے بھی اُس نے صرف پانچ فیصدی ادا کیا ہے۔گویا جس قلیل رقم کا ان سے مطالبہ کیا گیا تھا اور جو صرف دو فیصدی بار کی نسبت رکھتی تھی اس میں سے بھی صرف پانچ فیصدی رقم ادا کی گئی۔یعنی جو رقم مانگی گئی تھی اُس کا بیسواں حصہ ادا کیا گیا۔اس کے مقابلہ میں کارکنوں کی جو کٹوتیاں ہوتی ہیں وہ ان کے بلوں میں سے وضع ہو جاتی ہیں اور اس لحاظ سے انہوں نے وہی قربانی کی جس کا ان سے مطالبہ کیا گیا تھا۔پس کارکن اس عرصہ میں قاعدہ مقررہ کے مطابق ۲۵ فیصدی سے ۵۰ فیصدی تک ادا کر چکے ہیں۔گویا جماعت کے دوستوں نے سلسلہ کے بار کو ہلکا کرنے کے لئے جو کچھ ادا کیا اس سے کارکنوں نے ایک ہزار گنا زیادہ حصہ لیا۔یہ صورت حالات میں سمجھتا ہوں ایسی ہے کہ اگر میں کسی جماعت کا نمائندہ بن کر اس مجلس میں شامل ہوتا تو مجھے یہ کہتے ہوئے شرم آتی کہ کارکنوں کی کٹوتیوں کو ضبط کر لیا جائے۔اس سے طبائع کا فرق بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ دُنیا میں کیسی کیسی طبیعت کے انسان موجود ہیں۔مشورہ دیتے وقت غور سے کام لینا چاہیئے لیکن اصل بات یہ ہے کہ احباب مشورہ دیتے وقت غور سے کام نہیں لیتے۔گزشتہ سال ممبر کے بعد ممبر اُٹھتا تھا اور کہتا تھا کہ کارکنوں کے گزاروں میں سے کٹوتی کرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ انہیں جو کچھ ملتا ہے وہ گزارہ ہے تنخواہ نہیں ، جو کچھ بوجھ ڈالا جائے وہ باہر کی جماعت پر ڈالا جائے اور میں بار بار روکتا تھا کہ یہ درست طریق نہیں کہ صرف باہر کی جماعت پر بوجھ ڈال دیا جائے مگر آج جو دوست بھی اُٹھے ہیں انہوں نے یہی کہا ہے کہ سلسلہ کو مالی تکلیف ہے کارکنوں کی کٹوتی کو بالکل واپس نہ کیا جائے۔وہی ممبر ہیں ، وہی تجویز ہے، وہی مجلس شوری ہے، وہی حالات ہیں مگر پچھلے سال تو یہ کہہ رہے تھے کہ کارکنوں کے گزارہ میں سے کچھ نہ کاٹو ، کچھ نہ کاٹو اور جو بوجھ بھی ڈالنا ہو ہم پر ڈالو اور آج