خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 467
خطابات شوری جلد دوم ۴۶۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء سب کمیٹی بیت المال کی طرف سے رپورٹ درمیانی اور وسطی طریق اختیار کرو ہائی ہوئی کہ کارکوں کی تنخواہوں میں سے جو کٹوتی ہوئی تھی اُسے قرضہ قرار دیا گیا ہے مگر اس قرضہ میں سے وہ رقم منہا کی جانی ضروری ہے جوانہی سالوں میں جماعت کے دوسرے دوستوں پر چندہ خاص کی صورت میں لگائی گئی ہے۔اس کے متعلق کچھ نمائندگان نے اپنے خیالات اور آراء پیش کیں۔اس کے بعد حضور نے احباب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : - مختلف احباب اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔سوال یہ ہے کہ سلسلہ کی مالی تکالیف کو مدنظر رکھتے ہوئے کارکنوں کے گزاروں میں سے کچھ کٹوتیاں شروع ہوئی ہیں۔وہ کٹوتیاں ۱۳٫۲ اور ۴ فی روپیہ کے حساب سے ہیں یعنی بارہ فیصدی سے لے کر ۲۵ فیصدی تک۔بلکہ در حقیقت وصیت اور تحریک جدید کے چندوں کو ملا کر ۲۵ فیصدی کٹوتی چالیس پینتالیس فیصدی تک پہنچ جاتی ہے اور بارہ فیصدی والوں کی پچیس فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ کٹوتی ہو جاتی ہے۔یہ کٹوتیاں مالی مشکلات کی وجہ سے کی گئی تھیں مگر جب جماعت کے سامنے یہ سوال آیا اُس وقت یہ وضاحت رہ گئی کہ یہ کٹوتی بطور قرض ہوگی یا امداد کے طور پر تصور کی جائے گی اور بعد میں ادا نہیں کی جائے گی۔جب جماعت کے سامنے یہ سوال آیا اُس وقت کا رکنوں کے مقابلہ میں جماعت پر بھی ایک بوجھ ڈالا گیا اور وہ یہ کہ وہ ایک لاکھ چندہ خاص تین سال میں دے۔جماعت کا چندہ قریباً سات لاکھ روپیہ ہوتا ہے اس میں دوسرے چندے بھی شامل ہیں جن کو اگر نکال دیا جائے تو ساڑھے پانچ یا چھ لاکھ چندہ رہ جاتا ہے۔اس ساڑھے پانچ یا چھ لاکھ چندہ کے مقابلہ میں جماعت نے مزید ایک لاکھ روپیہ تین سالوں میں دینا تھا اور یہ نسبت ہیں فیصدی بلکہ اس سے بھی کم بنتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں کارکنوں سے جس چیز کا مطالبہ کیا گیا وہ ۲۵ فیصدی سے ۷۵ فیصدی تک ہے۔بلکہ اگر جماعت کے بار کی اوسط نکالی جائے اور اس میں چندہ وصیت وغیرہ کو بھی شامل کر لیا جائے تو باقی جماعت پر بار دو فیصدی بنتا ہے اور جو کارکنوں پر بار ڈالا گیا وہ ۷۵ فیصدی ہے۔در حقیقت اول تو یہ بار کی نسبت ہی غلط ہے۔جبکہ ہمارے احباب یہ تسلیم کرتے ہیں