خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 456

خطابات شوری جلد دوم ۴۵۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء کی زندگی کے لئے تجھ ہی سے دُعا کرتا ہوں۔اے میرے رب ! تو اس مُردہ کو زندہ کر دے۔اے میرے رب! تو اس مُردہ کو زندہ کر دے۔اے میرے رب! تو اس مُردہ کو زندہ کر دے۔رویا میں ہی مجھ پر یہ اثر بھی ہے کہ مُردے زندہ نہیں ہوا کرتے مگر پھر یہ خیال آتا ہے کہ نہیں اس کے زندہ ہونے کے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔اور جب میں نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رگیں پھولنے لگی ہیں۔تب میں نے اس کے پیٹ کی جگہ پر پانی کا چھینٹا دیا اور کہا اے میرے رب! تو اس مُردہ کو زندہ کر دے اور میں نے دیکھا کہ اُس کی ناف کی جگہ پر وہ پانی جمع ہونا شروع ہوا اور یوں معلوم ہوا کہ وہ اس کے جسم میں جذب ہو رہا ہے اور اس کی ہڈیوں پر گوشت نمودار ہونا شروع ہوا اور اس کے سر کی جگہ ربڑ کے غبارہ کی طرح موٹی ہونی شروع ہوئی اور پھر وہ گول ہونے لگا اور اس میں سے سر، چہرہ، آنکھیں، ناک اور گردن نظر آنے لگی ہے۔بعض آدمی جو وہاں کھڑے ہیں میں اُن سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں کہ دیکھو! یہ سانس لینے لگا ہے۔اس کے بعد اس کی لاتوں پر گوشت چڑھنے لگا اور اس طرح ہوتے ہوتے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جان پڑ گئی ہے مگر اس کی آنکھوں میں نور نہیں اور میں کہتا ہوں کہ مجھے الہام ہوا تھا کہ ہم نے ایک مُردہ کو زندہ کیا تھا، آؤ اب ہم اس کی آنکھوں میں نور ڈالیں اور مجھے گھبراہٹ بہت ہے کہ اس کی آنکھوں میں نور نہیں اور میں اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتا ہوں کہ آنکھ کھل گئی۔اس خواب میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہاتھی دُنیا کی علامت ہے اور محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا ہاتھی ڈھیر کے نیچے آجانے کے یہ معنے ہیں کہ وہ دُنیا کی محبت کے نیچے دب گئی ہے اور پرانے ڈھیر کے یہ معنے ہیں کہ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ صدیوں کی پرانی حالت بتائی جا رہی ہے یعنی جس دُنیا نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو مٹایا تھا وہ خود بھی خاک ہو چکی ہے۔تا ہم دُنیا کی ترقی کی خواہشات موجود تھیں اور ہمارے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو پھر زندہ کرے گا اور پھر اس کی آنکھوں میں نور پیدا ہوگا۔پہلے اس کے جسم میں جان پڑے گی اور پھر آنکھوں میں نور ڈالا جائے گا۔یعنی عملی قوت آئے گی اور مُردہ کو زندہ کرنے کے یہ معنے ہیں کہ یہ کام مُردہ کو زندہ کرنے کے برابر ہے مگر یہ انسانی تدبیروں سے نہیں ہوگا بلکہ محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوگا۔پس ہمیں چاہئے کہ اس کے لئے دعاؤں میں لگے رہیں اور محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو زندہ کرنے کی کوشش کرتے رہیں کیوں کہ دنیا کے لیے جو روحانی کمالات مقدر ہیں وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہی ہیں جب تک آپ کی محبت زندہ