خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 457
خطابات شوری جلد دوم نہ ہو گی اسلام ترقی نہیں کرسکتا۔۴۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء پس اصل چیز یہی ہے کہ ہمارے نمائندے اس امر کا اقرار کر کے جائیں کہ اپنے اندر نئی روح پیدا کریں گے اور باہر جا کر اپنی جماعتوں میں بھی وہی روح پیدا کریں گے اور یہی طریق کامیابی کا ہے ورنہ سامانوں سے ہم دُنیا پر غالب نہیں آ سکتے۔“ اگر موصی منظوری وصیت سے قبل وفات پا جائے مینہ بہشتی مقبرہ سے متعلق د و تجاویز کو بھی سب کمیٹی بیت المال کے سپرد کیا گیا تھا چنانچہ سب کمیٹی نے ان تجاویز کی بابت جو رپورٹ تیار کی اسے سیکرٹری صاحب بہشتی مقبرہ نے پیش کیا۔پہلی تجویز کہ اگر موصی منظوری وصیت سے قبل وفات پا جائے تو اس کی وصیت منظور کی جائے یا نہیں ، سے متعلق نمائندگان کے اظہارِ خیال کے بعد حضور نے فرمایا: - اس وقت دوستوں کے سامنے یہ سوال ہے کہ اگر کوئی موصی وصیت کر کے مقامی کارکنوں کے سپر د کر دے مگر صدرانجمن احمدیہ کی منظوری سے پیشتر وفات پا جائے تو اس کی وصیت منظور کی جائے یا نہیں؟ سب کمیٹی کی تجویز یہ ہے کہ اگر ان کی وصیت ماہوار آمد کی تھی اور وصیت کرنے کے بعد اس نے ماہوار حصہ آمد کی ادائیگی شروع کر دی یا اگر اس کی وصیت حصہ جائیداد کی تھی اور اس کے ورثاء حصہ جائیداد ادا کر دیں تو اس کی وصیت منظور کر لی جائے۔میر محمد الحق صاحب نے اس میں یہ ترمیم پیش کی ہے کہ چونکہ جو شخص اپنی زندگی میں وصیت منظور کرالیتا ہے اس کے لئے بھی ان شرائط کی پابندی ضروری ہے۔اور وصیت کے قواعد میں یہ بات داخل ہے اس لئے نئے سرے سے یہ شرائط لگانے کی ضرورت نہیں۔اس لئے میں پہلے میر صاحب کی ترمیم دوستوں کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ ان دونوں شرطوں کی ضرورت نہیں۔وہ پہلے ہی قواعد میں موجود ہیں۔اس لئے ان کا یہاں لکھنا غیر ضروری ہے اصل تجویز یہ ہے کہ مثلاً زید نے دہلی میں وصیت کی اس کی جائداد دس ہزار روپیہ کی تھی اور اس نے وصیت کی کہ اس میں سے ایک ہزار روپیہ انجمن کو دے دیا جائے۔اور یہ وصیت لکھ کر اس نے مقامی کارکنوں کے حوالہ کر دی اور پیشتر اس کے کہ وہ قادیان پہنچتی وہ فوت ہو گیا یا مثلاً اس کی ایک سو روپیہ ماہوار آمد تھی اور اس نے، ارا حصہ کی وصیت کی اور لکھ کر مقامی کارکنوں کو دیدی۔مگر قادیان میں وصیت پہنچنے سے قبل