خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 444

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء کے ماتحت ہو اور اس قسم کی تجویز پر اس وقت بحث کرنا میرے نزدیک تضیع اوقات ہے کیونکہ ایسی یو نیورسٹی کیلئے جتنے روپیہ اور جس قدر سامانوں کی ضرورت ہے اس کا عشر عشیر بھی اس وقت ہمیں میسر نہیں۔حتی کہ ہم ابھی تک انٹرمیڈیٹ کالج بھی قائم نہیں کر سکے اور جو جماعت ایف۔اے تک کلاسیں بھی نہ کھول سکے اُس کا یونیورسٹی کے قیام کی تجاویز پر بحثیں کرنا ایک کھیل اور تمسخر ہے۔صرف ایک سوال ہے جو زیر بحث آ سکتا ہے اور وہ وہی ہے جو در دصاحب نے پیش کیا ہے اور وہی اس قابل ہے کہ ہم اُس طرف توجہ کریں۔اور وہ یہ ہے کہ ہماری بعض درسگاہوں کے امتحانات تو حکومت کے مقررہ ادارے اور انسپکٹر لے لیتے ہیں مگر بعض درسگاہیں آزاد ہیں اور حکومت کی طرف سے ان کے امتحانات نہیں لئے جاتے یا حکومت کے ماتحت درسگاہوں کے بعض امتحانات ایسے ہیں جو حکومت کی طرف سے نہیں لئے جاتے۔مثلاً دینیات کا امتحان ہے وہ خود ہیڈ ماسٹر صاحب لے لیتے ہیں۔یا جیسا کہ کچھ عرصہ سے یہ طریق ہو گیا ہے نظارت لے لیتی ہے۔درد صاحب کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ہر ناظر تعلیم و تربیت کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ درسگاہوں کی ایسی ضروریات کو بھی محسوس کر سکے۔ہو سکتا ہے کسی وقت کوئی ایسا ناظر مقرر ہو جائے جو تربیت کے لحاظ سے مقرر کیا جائے مگر زیادہ تعلیم یافتہ نہ ہو کیونکہ ناظر تعلیم و تربیت کا کام تو یہی ہے کہ جماعت کی تعلیمی ترقی کا خیال رکھے اور اس کی تعلیمی ضرورتوں کو مجلس کے سامنے لاتا رہے، اس کا خود زیادہ تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں۔حکومت میں بھی جو وزیر تعلیم مقرر ہوتا ہے وہ بعض اوقات کئی ہیڈ ماسٹروں سے بھی کم تعلیم یافتہ ہوتا ہے۔اور اس سے کوئی نقص لا زم نہیں آتا کیونکہ اُس نے تو صرف تعلیم کی نگرانی کرنی ہوتی ہے تعلیم دینی نہیں ہوتی۔اور یہ طریق صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ بیرونی حکومتوں میں بھی ہے۔انگریزی حکومت میں جو تعلیم کا محکمہ ہے اس کے وزیر جب ڈاکٹر فنشر مقرر ہوئے تو ان کے اخبارات نے لکھا تھا کہ ساری تاریخ میں یہ پہلا ماہر تعلیم ہے جو اس عہدہ پر مقرر ہوا مگر اسے بھی ناکام ہونا پڑا اور کچھ عرصہ بعد وہ مستعفی ہو گیا کیونکہ وہ انتظامی قابلیت نہ رکھتا تھا۔تو ضروری نہیں کہ ہمارے ہاں جو ناظر تعلیم و تربیت مقرر ہو وہ لازمی طور پر زیادہ تعلیم یافتہ ہو۔درد صاحب نے خیال کیا کہ ایسی صورت میں اس کے لئے آزاد درسگاہوں کے امتحانات کا انتظام کرنے یا ایسی درسگاہوں