خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 443
خطابات شوری جلد دوم ۴۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء مولوی شیر علی صاحب نے لکھا ہے کہ جلسہ سالانہ پر اعلان کیا گیا تھا کہ مجلس مشاورت تک قرآن کریم کے ترجمہ کے نوٹ ختم ہو جائیں گے۔چنانچہ بالعموم وہ ختم ہو چکے ہیں اور اب صرف کراس ریفرنسز اور سورتوں کے خلاصہ کا کام ہو رہا ہے جو بہت جلد ختم ہو جائے گا۔اس کے بعد میں کل کی کمیٹیوں کی رپورٹیں پیش کرتا ہوں۔تین کمیٹیاں تھیں ایک بیت المال کی کمیٹی جس میں بہشتی مقبرہ سے متعلقہ کام بھی شامل تھا۔دوسری نظارت امور عامہ و امور خارجہ کی اور تیسری یونیورسٹی کے متعلق۔یونیورسٹی کے قیام کی تجویز اور سب سے پہلے میں ناظر تعلیم و تربیت کو بلاتا ہوں کہ وہ یو نیورسٹی کے متعلق جو دراصل گزشتہ سال کی رہی ہوئی تجویز ہے، رپورٹ پیش کریں۔اس سے پہلے میں حسب دستور سابق چوہدری ظفر اللہ خانصاحب کو بلاتا ہوں کہ وہ وقتا فوقتا بولنے والے دوستوں کو باری باری موقع دیتے جائیں۔میں سمجھتا ہوں کہ دوستوں کو اس رپورٹ کے سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوگی۔اگر ان کو یہ پتہ لگ جائے کہ یونیورسٹی سے مراد کیا تھی اور اس کا خیال کیونکر پیدا ہوا اور چونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے یہ تجویز سب سے پہلے درد صاحب کی طرف سے پیش کی گئی تھی اس لئے وہی اس کے متعلق مناسب روشنی ڈال سکیں گے۔وہ آئیں اور بتائیں کہ اس تجویز سے ان کا منشاء کیا تھا۔“ حضور کے اس ارشاد کی تعمیل میں مکرم مولا نا عبدالرحیم صاحب درد نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے ذہن میں یونیورسٹی کا مفہوم یہی تھا کہ ایک ادارہ ہو جس کے ماتحت نصاب تعلیم کا اجراء اور امتحانات لے کر ڈپلومے اور ڈگریاں جاری کرنا ہو۔محترم در دصاحب کی اس وضاحت کے بعد حضور نے فرمایا: - میں اس رپورٹ کے متعلق جو پڑھی گئی ہے یہ غیر معمولی طریق اختیار کرتا ہوں کہ قبل اس کے کہ اس کے بعض حصے پیش کر کے احباب سے ان کے متعلق رائے لی جائے پہلے اپنے خیالات کا اظہار کر دوں۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس موضوع پر اس رنگ میں بحث سے جیسا کہ سب کمیٹی نے اسے پیش کیا ہے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔کمیٹی کے ممبروں کا ذہن اس طرف گیا ہے کہ ان کے سامنے ایک ایسی یونیورسٹی کے قیام کی تجویز ہے جو انگریزی چارٹر