خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 442
خطابات شوری جلد دوم ۴۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے ۔ دوستوں نے اپنی اپنی جگہ پر دیکھا ہوگا کہ یہ جلسے کیسے کامیاب رہے ہیں۔ میرے پاس جو رپورٹیں پہنچی ہیں اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبلیغ کا ایک نیا رستہ پیدا ہو گیا ہے بعض جگہ مشکلات بھی پیش آئی ہوں گی اور یہ تحریک بعض لوگوں میں رغبت کی بجائے مخالفت پیدا کرنے کا موجب ہوئی ہو گی ۔ مگر بیشتر مقامات پر لوگوں نے اس تحریک کو پسند کیا اور اس سے فائدہ اُٹھایا ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ غیر اقوام سے تعلقات کی مضبوطی اور امن عامہ کے لئے یہ ایک مفید تجویز ہے۔ کئی جلسوں کی صدارت غیر مسلموں نے کی اور اُنہوں نے اقرار کیا کہ یہ جلسے ہندو مسلم اتحاد کے لئے بہت مفید ہیں ۔ حال میں ہی لاہور میں جلسہ ہوتا ہے جس کی تقریب کو تو میں نہیں سمجھ سکا کیونکہ ہم نے جو جلسے کرائے وہ دسمبر میں ہوئے تھے ۔ مگر بہر حال اس جلسہ کی صدارت ہائی کورٹ کے حج مسٹر سیکیمپ نے کی اور تسلیم کیا کہ ہندو مسلم اتحاد کا یہ بہترین ذریعہ ہے اور انشاء اللہ جوں جوں ان کو وسیع پیمانہ پر کیا جائے گا غیر مسلموں کے دلوں میں اسلام سے جو تنافر ہے وہ دور ہوتا جائے گا اور یہ جلسے بالخصوص غیر اقوام کے ساتھ احمدیوں کے تعلقات کی استواری کا موجب ہوں گے۔ بعض مقامات پر غیر اقوام نے تو ان جلسوں کے سلسلہ میں احمدیوں کے ساتھ ہمدردانہ تعاون کیا مگر غیر احمدیوں نے بہت بُرا نمونہ دکھایا ۔ نیروبی کے جلسے میں وہ شامل ہوئے اور سب تقریریں محبت وسکون سے سنتے رہے۔ عیسائیوں کی تقریریں سنیں ، سکھوں اور ہندوؤں کی سنیں مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر آیا تو وہ اُٹھ کر چلے گئے اور کہا کہ ہم یہ تقریر سننے کیلئے تیار نہیں۔ اس کا اثر غیر مسلموں پر بہت برا ہوا اور اُنہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ یہ لوگ اس قدر متعصب ہیں !! اور اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والے آپس میں اس قسم کے تعلقات رکھتے ہیں تو اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ غیر مسلم پیشواؤں کے متعلق جو تقریریں اُنہوں نے سُنی ہیں ، وہ نیکی کی وجہ سے نہیں ۔ اگر نیکی کی وجہ سے سنتے تو اپنے میں سے ایک شخص کے متعلق کیوں نہ سُنتے جس کے ساتھ ان کے اختلافات ہماری نسبت بہت کم ہیں ۔ مگر ایسی مخالفتوں سے گھبرانا نہیں چاہئے ۔ یہ امر یقینی ہے کہ آہستہ آہستہ یہ جلسے انشاء اللہ ضرور کامیاب ہوتے جائیں گے اور ہندوستان میں قیام امن کا ایک زبر دست ذریعہ ثابت ہوں گے ۔