خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 441

۴۴۱ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء اور میں اس بات کو اچھی طرح سمجھتا تھا مگر پھر بھی میں نے کثرت کے فیصلہ کو منظور کر لیا کیونکہ میں نے خیال کیا کہ اگر میں نے انٹرنس کا معیار کر دیا تو بعض لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ غرباء کی تعلیم کے رستہ میں دقت پیدا کر دی گئی ہے۔تعلیم کے متعلق یہ ایک نیا تجربہ تھا جس کے لئے اس دینی مدرسہ کو ہی منتخب کیا گیا۔اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کے دربار میں دہلی کا ایک طبیب آیا اور ان کے وزیر فقیر عزیز الدین سے مل کر اصرار کیا کہ مجھے مہاراجہ کے پیش کر دیا جائے۔وہ شریف آدمی تھے اس لئے انکار بھی نہ کر سکتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان کی وزارت طب ہی کی وجہ سے ہے۔انہوں نے اسے مہاراجہ کے پیش تو کر دیا مگر ساتھ کہا کہ مہاراج! یہ دہلی سے آئے ہیں، طب خوب پڑھ چکے ہیں اور حضور کے طفیل اب ان کو تجربہ بھی ہو جائے گا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ تھے تو ان پڑھ مگر ذہین بہت تھے فوراً سمجھ گئے اور کہا کہ تجربہ کے لئے غریب رنجیت سنگھ کی جان ہی نظر آتی ہے؟ اسے کچھ انعام دیا اور رخصت کر دیا۔اسی طرح احباب کا میلان اسی طرف تھا کہ اسی دینی مدرسہ پر ہی نئی سکیم کا تجربہ کیا جائے مگر تجربہ نے بتا دیا ہے کہ وہ رائے غلط تھی۔لڑکیوں کی تعلیم کے سلسلہ میں بھی ہمیں یہ وقت پیش آئی تھی۔وہاں بھی یہ تجویز کی گئی تھی کہ اُنہوں نے نوکریاں تو بہت کم کرنی ہوتی ہیں یا ان کے لئے اس کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں اس لئے مڈل کے بعد دینیات کی کلاسیں جاری کی جائیں۔ایک دو سال تک تو اس طرف اچھی رغبت رہی مگر پھر یہ شور اُٹھا کہ انٹرنس پاس کر کے ہی کیوں نہ داخل ہوں مڈل سے کیوں چھوڑ دیں؟ اور جب لڑکیوں کے متعلق یہ حالت ہو تو لڑکوں کے متعلق ہے خیال کر لینا کہ وہ سرے پر پہنچ کر واپس آجائیں گے بالکل ہی غلط خیال ہے اور یہی خیال اس کی ناکامی کا موجب ہوا ہے۔پھر اس کی ناکامی کی کچھ ذمہ داری خود افسروں کی نیت پر ہے۔وہ چونکہ اسے پسند نہیں کرتے تھے اس لئے ذراسی مشکل سے گھبرا کر رپورٹیں کرنے لگے اور آخر تبدیلی کرالی۔یومِ سیرت پیشوایان مذاہب کے جلسوں کی کامیابی یوم سیرت پیشوایان مذاہب کے جلسوں کے متعلق بھی