خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 418

خطابات شوری جلد دوم ۴۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء بجٹ صدر انجمن احمد سب کمیٹی بیت المال نے اپنی رپورٹ میں مجوزہ بجٹ صدر انجمن احمد یہ ۴۰۔۱۹۳۹ء منظور کرنے کی سفارش کی نیز تجویز پیش کی کہ آئندہ چندہ جلسہ سالانہ دس فیصدی کی بجائے پندرہ فیصدی مقرر کیا جائے۔مجلس مشاورت میں بجٹ پر لمبی بحث ہوئی اس کے بعد حضور نے بعض اہم امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا : - افسوس ہے کہ اس دفعہ پھر اس ہدایت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے جو میں نے ۳۰۔۱۹۲۹ء میں دی تھی کہ بجٹ کے متعلق جو اعتراضات ہوں وہ اس کمیٹی کو بھیج دیئے جایا کریں جو بجٹ پر غور کیا کرتی ہے اور چونکہ ایسا نہیں کیا گیا اس لئے بہت سا وقت ضائع ہو گیا ہے اور دوستوں نے اس وقت جو سوالات کئے ہیں، ان کا یہ موقع نہ تھا۔یہ سب کمیٹی کے پاس بھیجے جانے چاہئے تھے۔اس صورت میں یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ دوسرے احباب کو بھی بجٹ پر غور کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔یہاں تو صرف نمائندے ہی غور کر سکتے ہیں اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ مفید باتیں صرف نمائندے ہی کر سکیں بلکہ بعض اوقات ایک بچہ بھی کوئی ایسی بات پیش کر دیتا ہے جو بہت مفید ہوتی ہے۔یہاں تو صرف وہ سوالات ہونے چاہئیں جو بجٹ کے نقشہ کے متعلق ہوں اور کوئی ایسی بات ہو جو سمجھ میں نہ آسکے۔یعنی براہ راست بجٹ کے متعلق۔ایک اعلان میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ تین سال پہلے میں نے دفاتر کے معائنہ کے لئے جو کمیشن مقرر کیا تھا اُس نے اب تک صرف بار یک معائنہ ہی کیا ہے۔ابھی میرے ساتھ بجھ کر گفتگو کا موقع اسے نہیں مل سکا، اس لئے میں اس کی عمر ایک سال اور بڑھا تا ہوں۔اگر اس عرصہ میں کام ختم نہ ہوا تو شاید اسے اور موقع دے دیا جائے۔اس کے بعد میں بجٹ کے متعلق بعض سوالات دریافت کرتا ہوں۔سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ قرضہ کفالت جائیداد کے سامنے ۱۲۱۰۴۹ روپیہ درج ہے۔میں نے قانون بنایا ہوا ہے کہ انجمن میری اجازت کے بغیر کوئی جائیداد رہن یا بیع نہیں کر سکتی اور جب تک وہ یہ ثابت نہ کرے کہ اسے پرانی جائیداد کی واگزاری یانٹی کی