خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 417
خطابات شوری جلد دوم ۴۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء وصیت منظور نہ کریں، ہاں عورتوں کی صورت میں ہم نے گزارے پر کوئی وصیت نہیں لگائی کیونکہ روٹی ان کو روٹی کی صورت میں ملتی ہے لیکن آمد وہ ہے جو مال کی صورت میں اس کے قبضہ میں آجاتی ہے۔عورت یہ تو نہیں کر سکتی کہ آج میری طبیعت خراب ہے میں کھانا نہیں کھاتی ، اس کے عوض مجھے پیسے دے دو۔پس عورت کے لئے خاوند کے مال کے اس حصہ میں وصیت ہے جس کی وہ مالک بن جاتی ہے اور جس میں اشترا کی طور پر خاوند کی طرف سے اس کو مالکیت کا حق ملتا ہے جیسے کھانا اور کمرے کی رہائش وغیرہ اس پر وصیت نہیں ہے۔پس میرے نزدیک کوئی قابل حل سوال رہ ہی نہیں گیا تھا۔یہ تمام شقیں میں نے محبت پیار اور زجر سے جماعت سے منوالیں تھیں۔جب یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ہر شخص اپنی آمدنی سے حصہ وصیت ادا کرے تو اس میں یہ شق خود بخود آ گئی جہاں سے وہ کھاتا ہے اس میں سے ہم کو حصہ وصیت دیتا ہے تو میرے نزدیک یہ سوال حل ہو جاتا ہے۔اب صرف عورتوں کا سوال رہ جاتا ہے۔اس کے متعلق فیصلہ باقی ہے کہ ان کی جائیداد چونکہ بالعموم گزارہ والی نہیں ہوتی۔ان کے متعلق آیا کوئی تعین ہو یا نہیں۔مجھے اس بارہ میں دونوں صورتوں میں نقص نظر آتا ہے لیکن ابھی تک میرا نفس اس بارہ میں ایسا قانون نہیں بنا سکا جس پر میں مطمئن ہو سکوں ، اس لئے اس پر غور کر لیا جائے۔ہاں میں اس قدر سمجھا ہوں کہ ان کے بارہ میں کوئی قید لگانا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کے بالکل خلاف نہیں ہے۔پس میرے نزدیک اب اس معاملہ میں کوئی اور تجویز باقی نہیں رہ جاتی سوائے عورت کے معاملہ کے۔جن دوستوں کی یہ رائے ہو کہ اب جائیداد کو معین کرنا چاہئے وہ کھڑے ہو جائیں۔‘“ 66 اس پر صرف ایک صاحب کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا کہ:- اس سلسلہ میں اگر کوئی معتین مشکلات ہوں تو انہیں سامنے لانا چاہئے۔پہلے جو دقتیں تھیں، وہ سب کی سب حل شدہ ہیں۔لیکن اگر محکمہ والے سمجھتے ہیں کہ ان کے سامنے کوئی اور مشکلات بھی ہیں تو انہیں چاہئے کہ معین صورت میں سامنے لائیں اور انہیں آئندہ شوریٰ میں پیش کر دیں ، ان پر بھی غور کر لیا جائے گا۔“