خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 419
خطابات شوری جلد دوم ۴۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء خرید کے لئے ضرورت ہے اُسے ایسی اجازت نہیں دی جا سکتی۔یہ قرضہ گزشتہ سال کی نسبت چھبیس ہزار بڑھ گیا ہے۔اور میں پوچھتا ہوں کہ بغیر میری منظوری کے یہ کیسے بڑھ گیا؟ انجمن نے یہ کیا اندھیر مچا رکھا ہے کہ لاکھوں روپیہ اس طرح جماعت پر ڈالتی جا رہی ہے اور سمجھتی یہ ہے کہ اس کا بجٹ سے کوئی تعلق نہیں۔اس طرح وہ جتنا چاہے بے شک قرض لے کر خرچ کرتی جائے۔حالانکہ یہ صورت بہت ہی خطرناک ہے۔کسی کا مجھ سے روپیہ لے لینا ایسا بُر انہیں جتنا کہ میرا دوسروں سے لے لینا، اور پھر اسے بوجھ نہ سمجھنا گویا کہ اسے ادا ہی نہیں کرنا۔“ اس کے متعلق جب ناظر صاحب اعلیٰ نے کہا کہ یہ سارا روپیہ جائیداد بنانے پر صرف ہوا ہے تو اس پر حضور نے فرمایا کہ :- یہ بات بھی غلط ہے۔آپ یہ بھی ثابت نہیں کر سکتے کہ اس کا پچاس فیصدی بھی جائیداد بنانے پر صرف ہوا ہو۔لیکن اگر یہ درست بھی ہو تو بھی انجمن کو کیا حق ہے کہ منظوری کے بغیر نئی جائیدادیں خریدے۔ایک پیسہ کی جائیداد خریدنے کا بھی انجمن کو حق نہیں، چہ جائیکہ ناظم جائیداد کو ہو۔سوائے معمولی کاغذ پنسل وغیرہ ضروری اشیاء کے۔جائیداد خریدنے کے لئے جس کے لئے خریدی جا رہی ہو اس کی منظوری ضروری ہوتی ہے کیونکہ اگر وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس جائیداد کو رکھ ہی نہیں سکتا تو اسے خرید کر کیا کرے گا۔دوسرا سوال یہ ہے کہ آمد صیغہ جات جو ۶۱۷۲۶ دکھائی گئی ہے یہ کس بناء پر ہے؟ صفحہ ۲ پر جو آمد صیغہ جات دکھائی گئی ہے وہ ۳۸۰۰۰ ہے۔جس کا تیسرا حصہ قریباً ۱۳۰۰۰ بنتا ہے پھر ۶۱۰۰۰ کس طرح لکھ دیا گیا ہے؟ گزشتہ سال بجٹ کے متعلق میں نے یہ ہدایت دی تھی کہ خرچ آمد سے ہیں ہزار کم رکھا جائے مگر اس کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔قرضہ ہیں ہزار ادا کرنے کے بجائے اور بڑھ گیا ہے اور اب نظارت نے تجویز یہ کیا ہے کہ بیس ہزار خرچ زیادہ رکھا جائے۔چندہ جلسہ سالانہ تہیں ہزار لکھا گیا ہے جو بالکل فرضی ہے۔اگر پندرہ فیصدی شرح سے وصول کیا جائے تو اٹھارہ ہزار بنتا ہے۔گویا بارہ ہزار فرضی ہے۔اسے اگر نکال دیا جائے تو ۳۰۴۰۰۰ آمد رہ جاتی ہے۔جس میں سے ۳۰۷۰۰۰ خرچ دکھایا گیا ہے اور واپسی قرضہ میں ہزار بھی ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ مجلس میں یہ کہہ دیا گیا تھا