خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 402

خطابات شوری جلد دوم ۴۰۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء حضرت ناصح گر آئیں دیدہ و دل فرش راہ کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا جلوس کو آپ لوگ رڈ کر چکے ہیں۔باقی رہا جلسہ سو وہ بیٹھ کر ہوگا اور فلم تو متحرک ہوتی ہے۔جلسہ کی تصویر تو لی جاسکتی ہے مگر فلم نہیں بن سکتی۔اور تصویر ہر سال لی جاتی ہے۔نوجوانوں کے پاس کیمرے ہوتے ہیں اور وہ تصویر میں بھی لیتے ہیں اور اس سال بھی لی جاسکتی ہیں۔باقی فلم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ جلوس کو آپ لوگ رڈ کر چکے ہیں۔اس لئے گو اکثریت نے اس تجویز کے حق میں رائے دی ہے مگر اسے میں تسلیم بھی کرلوں تو بھی یہ بے نتیجہ ہے کہ کوئی فلم کمپنی ایسی ناسمجھ نہیں ہو سکتی جو بغیر فائدہ کے جلسہ کی فلم تیار کرنے کے لئے آئے اس لئے اس تجویز کو میں رڈ کرتا ہوں۔مگر اس کے باوجود میں بعض باتیں کہنا چاہتا ہوں۔میرا یہ فیصلہ اس بنیاد پر ہے کہ فلم لئے جانے کی کوئی چیز ہی اس تقریب میں نہ ہوگی۔پھر اگر ہو بھی تو کسی کمپنی کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ آ کر اس جماعت کی کسی تقریب کی فلم تیار کرے جس نے جا کر اسے دیکھنا ہی نہیں۔فلم کمپنیوں کا قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اصل کھیل سے پہلے کوئی حصہ علمی یا اخباری رکھ دیتے ہیں اور اُس وقت بعض لوگ سیگریٹ پیتے اور چاکلیٹ کھاتے ہیں اور کچھ اسے دیکھ بھی لیتے ہیں جن کو اس سے کوئی دلچسپی ہو۔اگر تو احمدیوں نے جا کر دیکھنا ہو تو کوئی کمپنی فلم تیار کر سکتی ہے۔وہ سمجھے گی کہ کیا ہوا اگر ہزار روپیہ خرچ ہو گیا تو ہزارہا کی آمد بھی تو ہو گی۔مگر ہم نے جب دیکھنا ہی نہیں تو کیا ہم کسی سے کہیں گے کہ آپ تشریف لائیں اور فلم تیار کریں مگر ہم دیکھیں گے نہیں بلکہ دوسروں کو بھی نصیحت کریں گے کہ آپ کے پاس نہ پھٹکیں۔یہ تو ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی انشورنس کمپنی قادیان میں آ کر اپنا دفتر کھول دے۔اس لئے یہ بات ہی غلط ہے کہ کوئی کمپنی آ کر فلم تیار کرے گی۔سینما کی ممانعت کے بارہ میں پھر بعض لوگوں کے منہ سے یہ بات بھی نکلی ہے کہ سینما کی ممانعت دس سال کے لئے ہے۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ بُرائی کا تعلق دس سال یا بیس سال سے نہیں ہوتا۔جس چیز میں کوئی خرابی ہو وہ کسی میعاد سے تعلق نہیں رکھتی۔اس طرح تو میں نے صرف آپ لوگوں کی عادت چھڑا دی