خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 401
خطابات شوری جلد دوم ۴۰۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء تقاضا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شاہی جو بلیوں کے مواقع پر چراغاں کیا ہے کیونکہ سارے ملک میں یہ کیا گیا تھا اور اُس وقت اگر آپ ایسا نہ کرتے تو سیاسی رنگ میں یہ قابلِ اعتراض بات ہوتی۔پس ضرورت کے موقع پر بے شک جائز ہے اُس وقت چونکہ ضرورت تھی آپ نے ایسا کر دیا۔پس میں یہی فیصلہ کرتا ہو کہ منارہ مسیح پر رونی کا انتظام کر دیا جائے تا اللہ تعالی نے احمدیت کی روشنی کو جو بڑھایا ہے اس کا ظاہری طور پر بھی اظہار ہو جائے۔باقی اس موقع پر صدقہ خیرات کر دیا جائے۔اور چونکہ قادیان کے غریب احمدی تو لنگر خانہ سے کھانا کھائیں گے ہی، اس لئے جہاں جو صدقہ کیا جائے وہ غیر احمد یوں بلکہ ہندوؤں اور سکھوں کو بھی دیا جائے۔“ فیصلہ جو بلی کے موقع پر جلسہ اور جلوس کی فلم کی تیاری سب کمیٹی کی طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ جو بلی کے موقع پر ایک فلم تیار کروائی جائے جو آئندہ نسلوں کے لئے بطور یادگار کام دے۔کچھ نمائندگان مشاورت نے اس کے حق اور مخالفت میں اپنی آراء پیش کیں۔اس کے بعد حضور نے اس بارہ میں چند نکات اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا : - تجویز یہ ہے کہ ہو سکے تو اس جلسہ اور اجلاس وغیرہ کی ایک مناسب فلم تیار کرائی جائے جو تبلیغی لحاظ سے مفید ہو سکے لیکن اس پر ہماری طرف سے کوئی خرچ نہ ہو بلکہ کسی بیرونی کمپنی وغیرہ کو دعوت دے کر کوئی انتظام کرایا جائے۔اس میں جلسہ اور جلوس کی فلم کی تیاری کی تجویز ہے مگر جلوس کو سب کمیٹی رڈ کر چکی ہے جو دوست اس کے حق میں ہوں کہ فلم تیار کرائی جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۱۹۸ دوست کھڑے ہوئے اور اس کے خلاف ۱۵۷نے رائے دی حضور نے فرمایا: - ایک سوال اس کے متعلق میرے دل میں ہے جس کی طرف ملک صاحب نے توجہ بھی دلائی تھی مگر اس پر زور نہیں دیا گیا۔غالب کا ایک شعر ہے کہ