خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 387

خطابات شوری جلد دوم ۳۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء رہے۔تحریک جدید کا جب تجربہ ہو جائے گا تب دیکھا جائے گا فی الحال اس کو زیر عمل لانے کی ضرورت نہیں۔شوریٰ کی سب کمیٹی نے اس کی تصدیق کی ہے۔اس کی جو وجوہات بتائی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابھی اس امر کا فیصلہ نہیں ہوا کہ مبلغین کی بھرتی تحریک جدید اور صدر انجمن احمد یہ ہر دو کے ماتحت جاری رہے گی یا صرف تحریک جدید کے ماتحت ہی مبلغین بھرتی ہوں گے۔اگر صرف تحریک جدید کی طرف سے ہوں گے تو صدرانجمن کے کارکنوں کا کام صرف مرکزی رہ جائے گا۔دوسری وجہ یہ بتائی ہے کہ اس میں اخراجات زیادہ ہو جائیں گے کیونکہ صدر انجمن میں بارہ بارہ روپے کے چپڑاسی بھی ہیں۔ان دونوں وجوہات کی بناء پر مثلاً یہ کہ اس کے انتظام میں دقت پیش آئے گی۔سب کمیٹی نے کہا ہے کہ ابھی تحریک جدید والی سکیم کو جاری نہیں کرنا چاہئے۔(اگر آپ لوگ نہیں سمجھے تھے ، تو آپ کو کہہ دینا چاہئے تھا) تائید کے لئے آپ یہ کہیں گے کہ سابق دستور قائم رہے اور خلاف کے لئے یہ کہ سابق دستور کو بدلا جائے تو جو دوست تجویز کے حق میں ہیں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۳۴۶ دوست کھڑے ہوئے۔جو دوست اس کے خلاف ہیں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۲۸ دوست کھڑے ہوئے۔رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا کہ:- میں اس وجہ سے کہ یہ سوال اپنی موجودہ شکل میں پوری طرح واضح نہیں ہوا اور شاید موجودہ حالات میں اتنا اہم بھی نہ ہو کثرتِ رائے کی تائید میں فیصلہ کرتا ہوں مگر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ شوری کی سب کمیٹی نے اس عبارت پر غور نہیں کیا جو میں نے لکھی تھی۔میں نے گزشتہ مشاورت میں جب پہلی دفعہ یہ معاملہ پیش ہوا تھا تو اُس وقت ایک اعلان کیا تھا کہ اگر ضرورت ہو تو سب کمیٹی مجھ سے مشورہ لے سکتی ہے۔اور وہ اسی وجہ سے کہ میں سمجھتا تھا کہ غالباً اس سوال کے سمجھنے میں دقت ہو گی۔مگر افسوس کہ انہوں نے اس اعلان کی اہمیت نہ سمجھی حالانکہ اگر وہ مجھ سے مشورہ لے لیتے تو اس غلطی میں نہ پڑتے جس میں وہ اس وقت مبتلا ہیں۔اب پھر جو دوبارہ غور ہوا ہے تو اس میں بھی سب کمیٹی نے صحیح غور نہیں کیا اور میں