خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 386
۳۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء خطابات شوری جلد دوم بعض چھوٹی چھوٹی باتیں بہت بڑا اثر پیدا کر دیتی ہیں۔لاہور میں ایک صاحب الیکشن میں کھڑے ہوئے غیر احمدیوں نے فیصلہ کیا کہ کوئی اُس کو ووٹ نہ دے۔اُنہوں نے ایک احمدی کے متعلق یہ بات بیان کی کہ ایک بوڑھا احمدی با وجود بہت تکلیف اور وقت کے ووٹ دینے کے لئے گیا اور اس نے کہا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ ہمارے امام نے ہمیں ووٹ اس طرف دینے کے لئے کہا ہے۔اس بات کا اُس پر اتنا اثر ہوا کہ سالہا سال بعد بھی جب وہ ملتا تو کہتا کہ اگر کوئی چیز ہے تو یہ ہے حالانکہ یہ ایک معمولی بات تھی لیکن اگر ساری جماعت میں یہی پیدا ہو جائے کہ وہ اپنے فرائض کو پوری طرح سمجھیں تو اس سے سینکڑوں گنا احمدی ہو جائیں گے۔ہاں یہ وعدے جن کی طرف میں توجہ دلاتا ہوں کہ افراد کریں، یہ جماعتی وعدے نہ ہوں بلکہ افرادی ہوں۔ایسا دوست جو جماعت کے لئے کسی سے وعدہ کرتا ہے تو یہ اپنا حق نہیں بلکہ دوسرے کے حق پر بھی وعدہ کرتا ہے۔تو جماعت کے افراد کو اپنے طور پر وعدے کرنے چاہئیں۔ان کو یہ خوب یاد رکھنا چاہئے کہ آپ نے پہلے جماعت سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری پر اپنے وعدوں کو پورا کریں گے لیکن ان وعدوں کے ایفاء کرنے کی تحریک سے وہ لوگ فائدہ نہ اُٹھا ئیں جنہوں نے گزشتہ سالوں کے وعدے بھی پورے نہیں کئے کیونکہ ان کا وعدہ جماعت سے وعدہ خلافی ہے اور یہ گناہ 66 ہے نیکی نہیں۔“ تقرری کارکنان صدر انجمن احمد یہ مجلس مشاورت میں سب کمیٹی نظارت علیاء کی رپورٹ پیش ہوئی۔سب کمیٹی کے سامنے یہ سوال تھا کہ آیا صدرانجمن احمدیہ کے کارکنان کو اس طرز پر بھرتی کرنا جس طرح تحریک جدید کے ماتحت واقفین زندگی کو بھرتی کیا جاتا ہے مفید ہوگا یا نہیں؟ غور وفکر کے بعد سب کمیٹی نے رائے دی کہ صدرانجمن احمدیہ کے موجودہ انتظام میں سر دست کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔موجودہ سات سالہ دور میں تجربہ ہو جانے کے بعد اس پر غور کیا جانا چاہئے۔اس تجویز کے بارہ میں ممبران کی رائے معلوم کرنے سے پیشتر حضور نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : - تجویز یہ ہے کہ سب کمیٹی نے تجویز کی ہے کہ سابقہ دستور کارکنوں کی تعیین کا جاری