خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 376

خطابات شوری جلد دوم ۳۷۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء ہنسے گا اور کہے گا کہ یہ پاگل تھے جنہوں نے ہزار ہو کر دومن بوجھ اُٹھایا۔ اقتدار اور غلبہ کے دور میں کام کی حیثیت تو آئندہ زمانہ میں بڑی بڑی حکومتیں آئیں گی ، دوسری طاقتوں پر انہیں غلبہ و اقتدار حاصل ہوگا اور وہ جب چاہیں گی ان کو توڑ کر رکھ دیں گی ۔ پھر اُن کے کام کے ذرائع وسیع ہوں گے اور وہ بغیر کوئی تکلیف محسوس کئے تمام کام کرتے چلے جائیں گے۔ مگر بہر حال صحابہ، تابعین، تبع تابعین کے مقابلہ میں اُن کے کاموں کی کوئی نسبت نہیں ہو گی کیونکہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جو کام غیر معمولی نظر آتے ہیں وہ بعد میں سامانوں کی کثرت اور قومی روح پیدا ہو جانے کی وجہ سے نہایت معمولی دکھائی دیتے ہیں کیونکہ جوں جوں دین ترقی کرتا چلا جاتا ہے قومی روح بھی ساتھ ہی ترقی کرتی چلی جاتی ہے اور صرف دین کا جوش ہی ان کے اندر قوت عمل پیدا نہیں کرتا بلکہ قومی روح بھی ان کے اندر ایک عزم اور ارادہ پیدا کر دیتی ہے۔ چنانچہ جب اسلام نے عرب سے نکل کر ایران میں ترقی کی تو ایران کے لوگوں میں صرف اسلامی جوش ہی پیدا نہ ہوا بلکہ ایرانیت کی روح بھی ان کے اندر پیدا ہو گئی۔ وہ اگر اپنے گردو پیش کے علاقوں پر حملے کرتے تھے تو صرف اس لئے حملے نہیں کرتے تھے کہ اسلامی عظمت قائم کریں بلکہ اس لئے بھی حملے کرتے تھے کہ ایران کی عظمت قائم کریں اور چونکہ وہ مسلمان تھے اس لئے ایران کی عظمت کے اضافہ کے معنے مسلمانوں کی عظمت میں اضافہ کے بن گئے ۔ اسی طرح ہندوستان میں خلجی اور لودھی خاندانوں نے اسلام کے عروج کے لئے جو کام کئے ان کا واحد مقصد اسلام کو غالب کرنا نہیں تھا بلکہ خلجی اور لودھی عظمت کو ہندوستان میں قائم کرنا بھی تھا۔ پس مسلمانوں کے غلبہ اور اقتدار کے زمانہ میں جو شخص بھی کوئی کام کر رہا تھا وہ خالص اسلامی روح کے ماتحت کام نہیں کر رہا تھا بلکہ کوئی اسلام کے ساتھ خلجی خاندان کی عظمت قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، کوئی لودھی خاندان کی عظمت قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، کوئی ایرانی عظمت کو قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی طرح کہیں برمی روح کام کر رہی تھی ، کہیں مصری روح لوگوں کے اندر داخل تھی ، کہیں سپینش روح ان کے اندر موجزن تھی اور کہیں فلسطینی روح اُن میں موجود تھی ۔ گویا خدا تعالیٰ کے حضور مسلمانوں کی طرف سے بعد میں بھی نذریں پیش کی جاتی رہیں مگر وہ نذر