خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 375
خطابات شوری جلد دوم اب سب عام مسلمان ہیں۔، ۳۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء اور یہ امر تو ظاہر ہی ہے کہ خاص قربانیاں خاص ناموں والوں سے ہی تعلق رکھا کرتی ہیں۔جن کو خاص نام ملتا ہے ان کو خاص کام بھی کرنے پڑتے ہیں، اور جن کو خاص نام نہیں ملتا، ان کا خاص کام بھی نہیں ہوتا۔بے شک بعد میں مسلمانوں کی زیادتی کی وجہ سے لوگوں کے کام بڑے نظر آتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ کام بڑے نہیں ہوتے۔ایک عمارت جو ہمیں آدمی مل کر بنا سکتے ہوں اُسے اگر ایک آدمی بنا دے تو اُس کی بہت زیادہ تعریف کی جائے گی اور اگر ہیں کی بجائے پانچ آدمی بنا دیں تو اُن کی بھی تعریف تو کی جائے گی مگر پہلے سے کم۔اور اگر دس آدمی اس عمارت کو بنا ئیں تو وہ بھی تعریف کے مستحق ہوں گے لیکن دوسروں سے کم درجہ پر۔لیکن اگر وہ عمارت جسے ہیں آدمی بنا سکتے ہوں اُسے پچیس آدمی مل کر بنا ئیں تو کیا تم سمجھتے ہو ان چھپیس کی تعریف کی جائے گی؟ دس آدمی تو اگر اپنے کام کا ذکر کریں گے تو اس پر کوئی ان کی تعریف کرے گا لیکن اگر بیس کی بجائے چھپیں آدمی یا تھیں آدمی اُس عمارت پر لگ جائیں اور پھر کہیں کہ دیکھا ! ہم نے کتنی جلدی عمارت بنائی؟ تو ہر شخص انہیں کہے گا کہ تم نے کون سا کام کیا، یہ تو ہمیں آدمیوں کا کام تھا جو تم چھپیس نے کیا پس تم تعریف کے نہیں بلکہ مذمت کے مستحق ہو۔اسی طرح بظاہر بعد میں آنے والے لوگ بڑے بڑے کام کرتے ہیں مگر ان کاموں کے کرنے والے بھی زیادہ ہوتے ہیں، پھر ان کے پاس سامان بھی زیادہ ہوتے ہیں اور گردو پیش کے حالات بھی ان کی تائید میں ہوتے ہیں۔پس گو بظاہر ان کا کام بڑا نظر آتا ہے مگر چونکہ سامان اور اعداد وشمار کے لحاظ سے انہیں زیادتی حاصل ہوتی ہے اس لئے نسبتی طور پر وہ ادنی سمجھے جاتے ہیں اور جنہوں نے پہلے کام کیا ہوتا ہے وہ اعلیٰ سمجھے جاتے ہیں۔اگر ایک ہزار آدمی مل کر دو من بوجھ اُٹھاتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں ایک بچہ من بوجھ اُٹھا لیتا ہے تو کیا ان ہزار لوگوں کی تعریف کی جائے گی جنہوں نے دومن بوجھ اُٹھایا ؟ یا اس بچہ کی تعریف کی جائے گی جس نے من بوجھ اُٹھایا ؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دو من وزن زیادہ ہے اور من تھوڑا۔مگر جب تعریف کا وقت آئے گا تو اُسی کی کی جائے گی جس نے اکیلے ایک من بوجھ اُٹھا لیا، اُن کی تعریف نہیں کی جائے گی جنہوں نے بہت زیادہ ہو کر دومن بوجھ اُٹھایا۔بلکہ ہر کوئی ان پر