خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 377

خطابات شوری جلد دوم ۳۷۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء خالص خدا کی نہیں تھی بلکہ اس نذر میں بتوں کا بھی اشتراک تھا اور اسلام کی فتوحات خالص اسلامی فتوحات نہیں تھیں بلکہ ان اقوام کی فتوحات بھی اس کے ساتھ شریک تھیں۔جب مؤرخ لکھتے تھے کہ فلاں موقع پر اسلام کی فتح ہوئی تو اُن کی یہ بات پوری سچی نہیں ہوتی تھی کیونکہ اُس فتح میں اگر بعض دفعہ اسلام کا ایک حصہ ہوتا تھا تو دس حصے اُس میں اپنی قوم کے شامل ہوتے تھے۔اور بعض دفعہ تو اس فتح میں دسواں حصہ بعض دفعہ بیسواں حصہ اور بعض دفعہ سواں حصہ اسلام کا ہوتا اور باقی سب قومی روح کا حصہ اس میں شامل ہوتا کیونکہ کوئی خلجیت کو غالب کرنے کے لئے لڑ رہا ہوتا، کوئی لودھیت کو غالب کرنے کے لئے لڑ رہا ہوتا ، کوئی ایرانیت کو غالب کرنے کے لئے لڑ رہا ہوتا، کوئی مصریت کو غالب کرنے کے لئے لڑ رہا ہوتا ، کوئی مغلیت کو غالب کرنے کے لئے لڑ رہا ہوتا اور کوئی افغانیت کو غالب کرنے کے لئے لڑ رہا ہوتا۔تو ملکی جوش اور وطنیت و قومیت دو مختلف جذبات ہیں جو مختلف اقوام کے لوگوں کے اندر اپنے عروج اور دبدبہ کے زمانہ میں پیدا ہو جاتے ہیں۔یہی قربانیاں کونسی ہیں بے شک اس وقت مذہب کے نام پر قربانیاں کی جاتی ہیں مگر وہ خالص خدا تعالیٰ کے لئے قربانیاں نہیں ہوتیں بلکہ ان قربانیوں کے نتیجے میں قومیت اور وطنیت کے جذبات بھی پوشیدہ ہوتے ہیں اور وہ فتح خالص خدا اور اس کے رسول کی فتح نہیں ہوتی بلکہ وہ کچھ اللہ کی فتح ہوتی ہے اور کچھ شیطان کی۔اور تم جانتے ہو کہ وہ فتح جو اللہ اور شیطان کی ہو وہ اللہ تعالیٰ کبھی قبول نہیں کرتا۔حدیثوں میں بھی آتا ہے اور قرآن میں بھی اجمالی رنگ میں اس کا ذکر آتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب کوئی بندہ قربانی کرتا ہے اور اس میں بتوں کا بھی کچھ حصہ ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ جاؤ یہ قربانی اُس کو واپس کر دو کیونکہ اس میں میرا حصہ نہیں ہے تو اس قسم کی کامیابیاں بے شک بظاہر بڑی نظر آتی ہیں مگر وہ اسلام اور روحانیت کے لحاظ سے بڑی نہیں ہوتیں کیونکہ وطنیت اور قومیت کے جذبات اس کے ساتھ شامل ہوتے ہیں اور اگر ان جذبات کو ہم الگ بھی کر دیں تو بھی ظاہری اسباب کی کثرت جو بعد میں آنے والوں کو میسر ہوتی ہے وہ اُن کے بڑے بڑے کاموں کو بھی حقیر قرار دے دیتی ہے اور ان کے بڑے سے بڑے کام بھی معجزہ نہیں کہلا سکتے ، بلکہ