خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 359
خطابات شوری جلد دوم ۳۵۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء کوئی دقت نہیں ہے۔اس تجویز سے یہ بھی فائدہ ہوگا کہ انگریزی تعلیم کی زیادتی کی وجہ سے ان طلباء کو مولوی فاضل کے بعد بی اے کرنے میں دقت نہ ہوگی اور جو سرکاری ملازمتیں کرنا چاہیں گے انہیں اس میں آسانی رہے گی۔(۲) آئندہ جو نئے کارکن لئے جائیں وہ حتی الوسع وقف کنندگان میں سے لئے جائیں جو تحریک جدید کی شرائط کے ماتحت اپنے آپ کو پیش کریں۔اور اس طرح ایسے بجٹوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے جو با قاعدہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ہاں یہ اصول مدنظر رہنا چاہئے کہ ایک خاص فنڈ ایسے لوگوں کی خاص ضرورتوں کے لئے کھول دیا جائے۔جیسے شادی بیاہ ہے، خاص بیماری ہے یا وفات کی صورت میں بچوں کا گزارہ ہے۔مکان کی ضروریات ہیں۔اور ایسے فنڈ کے لئے مثلاً دس فیصدی سلسلہ کی آمد ریز روفنڈ کے طور پر جمع ہوتی جائے۔موجودہ کارکنوں میں بھی اس قسم کے اصول پر کام کرنے کی تحریک کی جائے لیکن جو اپنی خوشی سے اس کے لئے تیار نہ ہوں انہیں مجبور نہ کیا جائے جو پرانے کارکنوں میں سے وقف کریں ، ان کی تنخواہوں میں تنزّل نہ کیا جائے۔ہاں آئندہ ترقیات بند کی جائیں اور امداد صرف اس اصل پر دی جائے کہ رقم زیادہ ہو جائے تو بطور خاص بونس یعنی عطیہ کے رقم دی جائے۔اگر روپیہ آ گیا تو امداد ملے ورنہ نہیں۔ایسے لوگوں کو جو وقف کنندہ نہ ہوں ملا زمت میں توسیع نہ دی جائے۔بناوٹ اور نمائش کو بند کرنے کے لئے یہ قاعدہ ہو کہ صرف وہی لوگ وقف کر سکتے ہیں جو ابھی اپنے گریڈ کی انتہاء کو نہیں پہنچے۔جو گریڈ کی انتہاء کو پہنچ چکے ہوں ان کے لئے وقف بے معنی ہو جاتا ہے۔تحریک جدید کے وقف کنندگان کے لئے زیر تجویز قوانین یہ ہیں :- (۱) ہر غیر شادی شدہ کارکن کو پندرہ روپیہ ماہوار۔شادی شدہ کو ہیں اور چار بچوں تک تین روپیہ ماہوار کی زیادتی ہو کر آخری رقم گزارہ کی بتیس روپیہ ہو گی۔یہ رقم گریجوایٹ اور غیر گریجوایٹ سب کے لئے یکساں ہوگی۔(۲) اگر کسی نفع رساں کام پر کسی وقف کنندہ کو لگایا جائے گا تو علاوہ گزارہ کے نفع میں سے