خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 360

خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء بھی اُسے حصہ دیا جائے گا۔(۳) اگر خدانخواستہ کسی وقت اس قدر گزارہ بھی ان کو نہ دیا جا سکے تو حسب وعدہ وقف کنندگان دوسرے کام کر کے اپنے گزارے کریں گے اور جن کو بھی اِس طرح عارضی طور پر فارغ کیا جائے یا مستقل طور پر انہیں کوئی عذر نہ ہوگا۔(۴) جولوگ غیر شادی شدہ ہوں گے اُنہیں ایسی صورت میں بغیر خرچ کے پھر کر تبلیغ کرنی ہوگی۔(۵) جو شادی شدہ سلسلہ کے کام کے لئے رکھ لئے جائیں گے اُنہیں ایسے ایام میں اس اصول پر کام کرنا ہو گا کہ سائز کا بجٹ تیار ہو کر جو رقم بچے اُسے ان میں بانٹ دیا جائے ، خواہ کس قدر کم رقم ہی کیوں نہ بچے۔(۶) اس کے مقابل اگر تحریک کی آمد مستقل پیمانہ پر بڑھ جائے تو انہیں حسب لیاقت و اہمیت خدمت خاص عطیہ ( یعنی بونس ) دیا جائے گا۔اس عطیہ کی کمی زیادتی کے بارہ میں بعد میں قوانین تجویز کئے جائیں گے۔خاکسار مرزا محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء) ا صحيح بخارى كتاب الرقاق باب التواضع الحجرات: ۱۵ سنن ابو داؤد کتاب الادب باب في المشورة - المائدة : ١٠٦ الحجر : ٨٩ صحیح بخاری کتاب النکاح باب الاكفاء فی الدین۔ك الاحزاب : ۵۱ سنن ابو داؤد كتاب السنة باب فى الزوم السنة 2 مشكواة المصابیح باب مناقب ابی بکر۔